چین میں اوباما کا استقبال اس طرح کیوں ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین میں جی-20 سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر باراک اوباما کے "سرد مہری" کے ساتھ استقبال کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کو بعض لوگوں نے "اہانت آمیز" بھی قرار دیا ہے۔ اوباما چین کے شہر ہانگ زو کے ہوئی اڈے پر اترے تو ان کے لیے سرخ قالین بھی نہیں بچھایا گیا تھا۔ اس کےعلاوہ طیارے کے آخری حصے میں لگائی جانے والی سیڑھی کے ذریعے اوباما باہر آئے جب کہ سفارتی روایات اور سربراہان کے استقبالیہ پروٹوکول میں عام طور پر سیڑھی طیارے کے اگلے حصے میں لگائی جاتی ہے۔

اوباما کے برعکس بیجنگ نے متعدد سربراہان کا خیرمقدم سرکاری سطح پر استقبال کے تقاضوں کے مطابق کیا۔ متعدد ممالک کے قائدین کے لیے سرخ قالین بھی بچھایا گیا جن میں روس ، برازیل اور جنوبی کوریا کے صدور کے علاوہ برطانیہ اور بھارت کے وزراء اعظم شامل ہیں۔

معاملہ یہاں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ہوائی اڈے پر چینی حکومتی ذمہ داران نے اوباما کے ہانگ زو پہنچنے پر پریس کوریج کے حوالے سے امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس اور دیگر امریکی اہل کاروں کے لیے مشکل کھڑی کر دی۔

صدر اوباما کے پہنچنے پر تصاویر لینے کے سلسلے میں جب امریکی ذمہ داران نے امریکی صحافیوں کی معاونت کرنا چاہی تو ایک چینی اہل کار نے ان کے سامنے چیخ کر کہا کہ "یہ ہمارا ملک ہے اور یہ ہمارا ہوائی اڈہ ہے"۔

بعد ازاں اوباما نے جوابی کارروائی کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور کہا کہ ہانگ زو کے ہوائی اڈے پر امریکی اور چینی ذمہ داران کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔

اوباما نے برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ چینی ذمہ داران کے حوالے سے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اوباما نے آخر میں باور کرایا کہ " جب میں انسانی حقوق جیسے مسئلے کو پیش کرتا ہوں تو کچھ کشیدگی نمودار ہوتی ہے جو شاید صدر شے کی دیگر سربراہان کے ساتھ ملاقات کے موقع پر نہیں ظاہر ہوتی"۔

چین نے صحافت کے حوالے سے سخت ضوابط لاگو کر رکھے ہیں اور وہ پریس کوریج کو ان معاملات کی بنا پر مسلسل طور نگرانی میں رکھتا ہے جن کو وہ حساس نوعیت کے قرار دیتا ہے۔

چین کے شہر ہانگ زو میں حکام نے "دم گھونٹ دینے والے" حفاظتی اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ ان کا مقصد جی-20 اجلاس کے موقع پر کسی بھی حادثے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم اوباما نے ہوائی اڈے پر پیش آنے والے واقعے کی حدت کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کے ساتھ جو بڑا وفد آیا ہے وہ کسی بھی ملک کو خوف زدہ کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں