یورپ: مسلمانوں کے لیے پہلی مرتبہ نسل پرستوں سے تحفظ کے رہ نما اصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک یورپی خاتون کارکن کی جانب سے ہدایات پر مشتمل ایک رہ نما تیار کیا گیا ہے جو یورپ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا دستاویز ہے۔ رہ نما میں مسلمانوں کو نسل پرستی کی بنیاد پر "اسلاموفوبیا" کے سبب کسی بھی طرح کی خلاف ورزی، تنگی یا حملے کا نشانہ بننے کی صورت میں تحفظ اور مدد پیش کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہدایات شامل کی گئی ہیں۔

یورپ میں مسلمانوں کے خلاف معاندانہ حملوں کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ "اسلاموفوبيا" کے نتیجے میں ہونے والے ان حملوں میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کے متعلق کرائے گئے ریفرنڈم کے بعد 326% تک اضافہ ہوا۔ جہاں تک براعظم یورپ کے دیگر حصوں کا تعلق ہے تو وہاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے نفرت انگیز حملوں میں داعش تنظیم کی جانب سے یورپ کے مختلف مقامات پر بالخصوص جرمنی، فرانس اور بیلجیئم میں کی جانے والی دہشت گرد کارروائیاں بڑھ جانے کے بعد سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فرانس کی مختلف بلدیات نے کچھ عرصہ قبل مسلمان خواتین میں مقبول تیراکی کے باوقار لباس 'بُرقعنی' کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ یہ روک اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب یورپ ان تصاویر کو دیکھ کر ہل گیا جن میں فرانس کے ایک ساحل پر مسلح پولیس اہل کار زبردستی ایک خاتون کو بُرقعنی اتار دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ بعد ازاں واقعے کے صرف دو روز بعد ہی عدلیہ نے مداخلت کر کے پابندی کے فیصلے پر عمل درامد روک دیا۔

انسانی حقوق کی کارکن 22 سالہ ماریا شیرین یانیر کے تیار کردہ رہ نما میں ان اقدامات کو بیان کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے کسی نفرت آمیز جرم یا نسل پرستی کے پس منظر میں کسی خلاف ورزی کا نشانہ بننے کی صورت میں ان کے تحفظ کے لیے کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدامات درج ذیل ہیں:

پہلا: فوری طور پر متاثرہ شخص کے پاس جا کر اس کے ساتھ دوستانہ گفتگو شروع کر دیں اور حملہ آور کو نظرانداز کریں۔ اگر آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں ہیں تو اس کے برابر میں بیٹھ کر ایسی گفتگو کریں جس سے وہ خود کو تنہا نہ محسوس کرے۔

دوسرا: متاثرہ شخص کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بات چیت کریں۔ اس کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع کردیں یہاں تک کہ آپ اس کی توجہ نسل پرست حملہ آور کی بات سے ہٹا دیں۔ یہ ممکن ہے کہ آپ باحجاب خاتون کے ساتھ موسم یا سینیما کی نئی فلم کے بارے میں گفتگو کریں یا آپ اس باحجاب خاتون سے کہیں کہ آپ کو اس کا لباس اور نفاست پسند آئی ہے۔

تیسرا: متاثرہ شخص کے ساتھ آپ بات چیت جاری رکھتے ہوئے اس کے لیے ایک "محفوظ مقام" تخلیق کر دیں اور اس کو اطمینان دلائیں۔ متاثرہ شخص کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں اور اس پر مسلسل نظر جمائے رہیں۔ اس سے حملہ آور یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوجائے گا کہ دو لوگ اس نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس مقام سے چلا جائے گا اور متاثرہ مسلمان مرد یا باحجاب خاتون کے خلاف زبانی حملوں سے رک جائے گا۔

چوتھا : آپ پر لازم ہے کہ متاثرہ شخص کے کسی محفوظ جگہ پر پہنچنے اور حملہ آور کے اس جگہ سے چلے جانے کی تصدیق ہونے تک اس کے ساتھ دوستانہ گفتگو جاری رکھیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کہیں زبانی حملہ کسی پرتشدد واقعے میں تبدیل نہ ہوجائے۔ متاثرہ شخص کو اپنے ساتھ کسی اور جگہ یا ضرورت ہو تو کسی محفوظ مقام تک لے جائیں۔

واضح رہے کہ یورپی قوانین کسی بھی شخص کے خلاف مذہب یا رنگ و نسل کی وجہ سے امتیاز برتنے کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم "این جی اوز" وقتا فوقتا متعدد خلاف ورزیوں کا اندراج کرتی ہیں۔ تاہم ان میں زیادہ تر خلاف ورزیوں میں تشدد اور جسمانی ایذا کا پہلو شامل نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ عام طور پر گفتگو کے ذریعے معنوی ایذا رسانی تک محدود رہتی ہیں۔ عام طور پر باحجاب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن کے لباس سے ان کی مذہبی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں