’G20‘ اجلاس شروع، شہزادہ محمد سعودی عرب کے مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

دُنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں پر مشتمل ’جی 20‘ گروپ کے ممبران کا نمائندہ اجلاس پہلی بار عوامی جمہوریہ چین میں شہر ہانگ زو میں شروع ہوگیا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کی طرف سے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نمائندگی کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان جو پہلے ہی ایشیائی دورے پر ہیں، ہفتے کی شام ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچے تھے۔ چین پہنچنے کے بعد انہوں نے چینی صدر شی جین پینگ اور ’جی 20‘ اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہ نما اور وفود سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں سعودی عرب اور جی 20 کے ممبر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ سے اتفاق کیا گیا۔

کل اتوار کے روز منعقد ہونے والے G20 اجلاس میں عالمی اقتصادی ترقی کے حوالے سے کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں معاشی ترقی کے نئے راستوں کا تعین، فعال عالمی اقتصادی حکمرانی، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تحفظ اور معاونت فراہم کرنا اور متوازن و جامع عالمی ترقی کو یقینی کے لیے ٹھوس اقدامات جیسے موضوعات بہ طور خاص زیر بحث آئے۔

اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر ثقافت واطلاعات عادل الطریفی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت سے قبل الطریفی نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین کی میزبانی میں منعقد ہونے والا G20 اجلاس کامیاب ہوگا اور اس کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین مرکزی سیشنز کے ساتھ ساتھ تین اختتامی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں پوری دنیا میں معاشی بحران، بے روزگاری، غربت، انسداد دہشت گردی جیسے موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ اس موقع پر سعودی عرب اور چین کے درمیان اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے کئی اہم اعلانات بھی کیے جائیں گے۔

چین میں ’جی 20‘ اجلاس کے موقع پر سعودی نائب ولی عہد نے روسی صدر ولادی میر پوتن سمیت کئی عالمی رہ نماؤں سے ملاقات کی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ریاض اور ماسکو کے درمیان تعاون کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی کو فائدہ پہنچے گا۔

بعد ازاں شہزادہ محمد بن سلمان نے جی ٹونٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر رہ نماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور روس تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ کو بہت کمزور کیا ہے اور ماسکو اور ریاض مل کر بین الاقوامی آئل مارکیٹ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد روسی صدر نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ روس اور سعودی عرب کے درمیان اوپن ڈائیلاگ کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

چین میں جاری جی 20 اجلاس کی کوریج کے لیے العربیہ کی ٹیم بھی موجود ہے۔ العربیہ چینل کی ٹیم کے سربراہ لارا حبیب نے اجلاس میں زیر بحث موضوعات پر روشنی ڈالی۔ لارا کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین نے اجلاس کے دوران سنہ 2015ء کے آخر میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے بین الاقوامی ماحولیاتی تحفظ کے معاہدے کی توثیق کردی ہے۔

العربیہ کی نامہ نگار نے بتایا کہ چین نے ’جی 20‘ اجلاس کی تیاری اور میزبانی کے لیے اربوں کی رقم خرچ کی ہے۔ اجلاس کے مقام سے عام آبادی کو دور ہٹانے کے ساتھ آسمان میں مختلف طرح کے رنگ بکھیرنے اور ہانگ زو میں ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ہزاروں کاروخانوں کو عارضی طور پربند رکھا گیا ہے۔

اس موقع پر عالمی مانیٹری بنک کی طرف سے ’جی 20‘ کے شرکاء سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالمی تجارتی معاہدوں کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ اوپن مارکیٹ کے تصور کو فروغ دیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ جی 20 ممالک اس وقت پوری دنیا کی 80 فی صد معیشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اجلاس میں عالمی ماحولیاتی مسائل اور ماحولیات تحفظ جیسے موضوعات بھی زیربحث آئیں گے۔ اس ضمن میں پیرس کانفرنس کی روشنی میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے چین اور سعودی عرب کے درمیان بھی سمجھوتہ طے پانے کی توقع ہے۔

اجلاس میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے اعلان کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے بھی شرکت کی ہے تاہم یورپی یونین نے جی 20 کے اجلاس سے فائدہ اٹھانے کی برطانوی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔

روس اور چین کی جانب سے اسٹیل کی بھاری مقدار پیدا کرنے کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ بھی ’جی 20‘ اجلاس کےایجنڈے کا حصہ ہوگا۔

چین کے صدر شی جین پنگ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں بہتری آ رہی ہے تاہم ابھی بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی رہ نماؤں پر زور دیا کہ وہ کھوکھلے مذاکرات سے اجتناب کریں۔

چین کے شہر ہانژوا میں جی 20 گروپ کے رکن ممالک کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ ’عالمی معیشت کو درپیش مسائل کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کو جی 20 اجلاس سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔‘

اجلاس میں دیگر اہم مسائل پر بات چیت کے علاوہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے، بین الاقوامی سٹیل کی منڈی کو درپیش بحران اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے ٹیکس مامعلات پر بھی غور کیا جائے گا۔

جی 20 اجلاس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کی تھا کہ اس برس بھی عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کی پیشن گوئی میں کمی امکان ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ آنے کے بعد آئی ایم ایف پہلے ہی رواں برس کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کے ٹارگٹ میں کمی کا اعلان کر چکی ہے۔

اجلاس سے یورپی یونین کے ہائی کمشنر جان کلوڈی یونکر،برطانوی وزیراعظم تھریسا مے، آسٹریلوی وزیراعظم مالکو ٹرنبول، جاپان کے ڈپٹی اسپیکر کوچی ھاجیوڈا اور جرمن چانسلر انجیلا مریکل بھی خطاب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں