.

شام میں جنگ بندی، روس اور امریکا کے متضاد دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں پانچ سال سے جاری کشت وخون کی روک تھام میں عالمی برادری ایک بارپھر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ امریکا اور روس کی طرف سے شام میں خانہ جنگی کی روک تھام اور جنگ بندی کے قیام کی کوششوں کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع کے حوالے سے واشنگٹن ماسکو کےساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے جب کہ دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوتن کا دعویٰ ہے کہ امریکا اور روس شام کے تنازع کے حل کے حوالے سے کئی نکات پر متفق ہوچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کی شام امریکی صدر باراک اوباما کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ شام کے تنازع پرماسکو اور واشنگٹن کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کے باعث تنازع کے حل کے لیے ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکی ہے۔

چین میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ شام کے حوالے سے روس اور امریکا کے درمیان گہرے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جنگ بندی ہمیں داعش اور النصرہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ میں صدر پوتن پرواضح کردیا ہے کہ شام میں نہتے شہریوں کا قتل عام اب بند ہونا چاہیے۔ روسی صدر کے ساتھ بات چیت میں شام میں جنگ بندی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔

پوتن کا متضاد موقف

دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس کے برعکس بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور روس شام کے حوالے سے جلد ہی متفقہ معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

چین میں عالمی معاشی طاقتوں کے اجلاس کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان شام کے تنازع کے حل کے حوالے سے کافی حد تک قربت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کو شام کے حوالے سے کسی قابل قبول حل تک لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر جان کیری اور سیرگی لافروف کسی موقف پر متفق ہوتے ہیں تو ہم شامی بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ بعض ممالک ترکی اور روس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے۔