.

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پیلٹ گولیوں کی جگہ اب مرچوں والے گولے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اب مرکزی حکومت نے پولیس اور فوج کو پیلٹ بندوقوں کی جگہ مرچوں بھرے گولے مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گذشتہ دوماہ کے دوران بھارتی فورسز نے شاٹ گن کے ذریعے پیلٹ گولیوں کا مظاہرین کے خلاف بے دریغ استعمال کیا ہے جس سے سیکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں بیشتر جزوی یامکمل طور پر بینائی کھو بیٹھے ہیں۔

وادی کشمیر میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اسلحے کے اس وحشیانہ استعمال پر بھارت کی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔خاص طور پر کشمیری نوجوانوں کی آنکھیں ضائع ہونے کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سری نگر کے دورے کے موقع پر سوموار کے روز کہا ہے کہ ماہرین کے ایک پینل نے پیلارجونک ایسڈ وینائلیلمائیڈ ( پاوا) کے کارتوس (گولے؟) کو پیلٹ گولیوں کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔

مسٹر سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ماہرین کے پینل نے پاوا کے شیل کے استعمال کی سفارش کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی بھی نہیں مر سکتا ہے گذشتہ روز (اتوار کو) ایک ہزار پاوا کارتوس کشمیر میں پہنچ چکے ہیں''۔

بھارتی فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پیلٹ گولیوں کی اس جواز کے ساتھ استعمال کی اجازت دی گئی تھی کہ اس سے کم سے کم جانی نقصان ہوگا اور متاثرہ لوگوں کو کم سے کم نقصان پہنچے گا لیکن عملاً کشمیری مظاہرین کا کہیں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے اور یہ گولیاں لگنے سے سیکڑوں افراد کے چہرے بگڑ چکے ہیں یا وہ آنکھوں سے اندھے ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی قانون کے تحت مسلح افواج کو مشتبہ حریت پسندوں کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی عام اجازت ہے۔

سری نگر اور دوسرے شہروں کے اسپتالوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو ماہ کے دوران کم سے کم چھے سو ایسے زخمیوں کا علاج کیا ہے جن کی آنکھیں زخمی تھیں۔ان میں سے بیشتر کی مکمل بینائی اب کبھی نہیں لوٹ سکے گی۔

پوری وادی کشمیر میں سرکردہ حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کے آٹھ جولائی کو ماورائے عدالت قتل کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے اور کشمیری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔بھارتی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں اور ان کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں مرنے والوں کی تعداد ستر سے زیادہ ہوچکی ہے اور ساڑھے تین سے چار ہزار کے درمیان افراد زخمی ہیں۔

ریاستی حکومت نے امن وامان کی ابتر صورت حال پر قابو پانے کے لیے بیشتر شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے،مواصلاتی بلیک آؤٹ جاری ہے اور بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔