.

188747 غیر مجاز افراد کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور بار بار کے انتباہی اعلانات کے باوجود ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ہزاروں افراد نے حج ایسی اہم عبادت کے لیے نقب زنی کی کوشش کی ہے مگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں۔

مکہ مکرمہ کی پولیس کے ڈائریکٹر میجر جنرل سعید القرنی نے بتایا ہے کہ اب تک مختلف چیک پوائنٹس سے 188747 غیر مجاز افراد کو واپس کیا گیا ہے۔ان افراد نے حج کے اجازت ناموں کے بغیر مکہ مکرمہ میں حج کے لیے داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ 84965 گاڑیوں نے غیر قانونی طور پر مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی مگر انھیں شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ان کے علاوہ غیرقانونی طور پر اور کسی قسم کی دستاویزات کے بغیر حج کے لیے افراد کو لانے والی 48 منی بسوں کو ضبط کر لیا گیا ہے۔

سعید القرنی نے کہا ہے کہ معمول کی معائنے کی کارروائیوں کے دوران 22 جعلی حج مہموں کا سراغ لگایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد حج کے لیے غیر قانونی طور پر آنے والے افراد کے داخلے کو روکنے کے لیے 109 سکیورٹی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

درایں اثناء مکہ مکرمہ میں اتوار سے حج کا عظیم سمپوزیم جاری ہے۔اس کا عنوان : ''سفرِ حج : کل اور آج '' ہے۔سعودی عرب کے وزیر حج اور عمرہ محمد صالح بنتان نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ''اس سمپوزیم کا مقصد علماء کے درمیان ابلاغ کو فروغ دینا ہے۔سعودی مملکت نے ہمیشہ سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام رواداری ،امن اور اعتدال پسندی کا دین ہے''۔

دنیا بھر کے تمام مسلم ممالک اور یورپ اور امریکا میں مقیم مسلم کمیونٹیوں سے تعلق رکھنے والے دو سو سے زیادہ علمائے کرام اور اسکالر اس سالانہ سمپوزیم میں شرکت کررہے ہیں۔سعودی وزیر نے شرکاء پر زوردیا ہے کہ وہ عازمین حج کو تمام مناسک کو درست انداز میں انجام دینے کے طریقوں سے آگاہ کریں۔

اس موقع پر مصر کے مفتیِ اعظم شوقی علام نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع اور عازمین حج کو امن وسکون کے ساتھ حج کے مناسک کی ادائی کے لیے خدمات کی فراہمی پر سعودی مملکت کی کوششوں کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اسلام اور مسلمانوں کے لیے جو خدمات انجام دے رہا ہے،اس کو سراہا جانا چاہیے۔