اوباما کو گالی دینے والے فلپائنی صدر کی عجیب عادات

دوتیرتے امریکی سفیراور پوپ کو بھی برا بھلا کہہ چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

فلپائن کے صدر رود ریگو دو تیرتے ایک بار پھرعالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اس کی وجہ ان کا ایک متنازع اور چونکا دینے والا بیان ہے جس میں انہوں نے سپر پاور امریکا کے صدر کو گالی کی زبان میں مخاطب کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دس کروڑ آبادی کے ملک کے سربراہ مملکت دو تیرتے ماضی میں بھی اپنی مبینہ تلخ کلامی کی بناء پر کافی بدنام رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسے وقت میں جب صدر امریکا براک اوباما لاوس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تھے دو تیرتے نے گالی دے کر رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے۔ اس اجلاس میں ان کی ملاقات باراک اوباما سے بھی طے تھی مگر جب ذرائع ابلاغ میں ان کا یہ بیان چھپا کہ ’ مجھ سے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں بات نہ کرنا ورنہ ’فاحشہ کے بچے، میں تمھیں گالیاں دوں گا‘۔ امریکی صدر نے ملاقات منسوخ کر دی ہے۔

فلپائن کے صدر دو تیرتے کا یہ بیان اپنی جگہ کافی متنازع اور نامناسب ضرور ہے مگر وہ اس میدان میں تنہا ہرگز نہیں ہیں۔ کچھ ایسا ہی لب ولہجہ لیبیا کے مقتول مرد آہن کرنل معمر قذافی اپنایا کرتے تھے۔ شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کیم جونگ اون بھی گالیاں بکنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فلپائنی صدر کی مجموعہ اضداد عادات پر ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ موصوف نے امریکی صدر کے خلاف پہلی بار اس طرح کی زبان استعمال نہیں کی۔ اس سے قبل وہ اپنے ہاں تعینات امریکی سفیر کو بھی’فاحشہ کابیٹا‘ اور ہم جنس پرست قرار دے چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر دو تیرتے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی تنقید کی بھی زد میں ہیں کیونکہ پچھلے سال 30 جون کو ان کے اقتدار سنھبالنے کے بعد 2400 افراد ماورائے عدالت قتل کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ فلپائنی پولیس کا دعویٰ ہے کہ بیشتر ہلاکتیں پولیس مقابلوں میں ہوئی ہیں مگرانسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلپائنی حکام نے انسداد منشیات کی آڑ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنا شروع کر رکھا ہے۔

دو تیرتے کے متنازع بیان سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر باراک اوباما فلپائنی صدر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کریں گے۔ اس خبر کے رد عمل میں دو تیرتے نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’اے فاحشہ کے بچے تمہیں دوسروں کا احترام کرنا چاہیے۔ بیانات جاری کرنے اور سوالات اٹھانے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔ میں بھری محفل میں تم پر لعنت بھیجوں گا۔ ہم دونوں خنزیروں کی طرح مل کر مٹی میں لتھڑیں گے‘۔

فلپائنی صدر پرالزام ہے کہ وہ ’زبان چھوٹ‘ ہیں۔ جو زبان پرآیا جس کے خلاف آیا کہہ دیا۔ ماضی میں بھی وہ اسی طرح کا چلن اپنائے رہے ہیں۔

حالیہ نیوز کانفرنس جس میں انہوں نے امریکی صدر کی ناراضی مول لی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے اسی لب ولہجے کی بناء پر انہیں فلپائن کا ڈونلڈ ٹرمپ کہا جانے لگا ہے۔ کیونکہ وہ پہلے تو خوب گالم گلوچ کرتے ہیں، بعد میں کہتے ہیں کہ میں تو مذاق کررہا تھا۔

فلپائن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے پراقوام متحدہ کے فورم پرہونے بحث نے بھی دوتیرتے کو بہت برہم کردیا تھا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو بھی مغلظات سنائیں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ سے نکلنے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔ تاہم بعد ازاں ایک بیان میں کہنے لگے ’میں تو مذاق کررہا تھا‘۔

تازہ کانفرنس میں انہوں نے مخالفین کے دماغ کو کتوں کے دماغ سے تشبیہ دی اور کہا کہ کچھ لوگ کتوں کے دماغ کی طرح سوچتے ہیں۔

اس سے قبل وہ منیلا میں تعینات امریکی سفیر کو ’ناپسندیدہ‘ شخصیت قرار دینے کے ساتھ انہیں بھی فاحشہ کا بیٹا، منشیات کا عادی اور ہم جنس پرست قرار دے چکے ہیں۔

ایسا نہیں کہ دوتیرتے کا نشانہ صرف امریکی ہی ہوں۔ وہ پوپ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ، حالانکہ فلپائن کے عوام کی اکثریت کیتھولک ہونے کے ناطے پوپ سے عقیدت رکھتی ہے۔

سنہ2015 میں جب پوپ فلپائن کے دورے پر آئے تو منیلا کا بدنامِ زمانہ ٹریفک مزید درہم برہم ہوگیا۔ دوتیرتے ایسا موقع ہاتھ سے کہاں جانے دیتے، وہ کہہ اٹھے: ’میں ٹریفک میں پانچ گھنٹے پھنسا رہا۔ میں نے پوچھا کون آ رہا ہے، کہا گیا پوپ۔ میں نے کہا دوبارہ اس طرف کا رخ مت کرنا۔‘ غصہ ٹھنڈا ہوا پوپ کے خلاف بیان کو بھی مذاق قرار دے ڈالا۔

بعد ازاں جب انتخابی مہم شروع کی تو عہد کیا کہ وہ صدر منتخب ہو کر ویٹیکن کے دورے پرجائیں گے اور پوپ سے معافی مانگیں گے مگر انہوں نے ابھی تک معافی نہیں مانگی۔

زمانہ طالب علمی میں رود ریگو دوتیرتے ’’سان بیڈا‘‘ نامی ایک کالج میں اپنے ہم جماعت پر گولی چلانے کے مرتکب ہوئے۔ دو تیرتے نے الزام عاید کیا کہ اس کے کلاس فیلو نے اسے وسطی فلپائنی باشندہ کہہ کر اس کی توہین کی ہے۔ مگر دوتیرتے کی خوش قسمتی کہ گولی اس کےساتھی کو لگی نہیں ورنہ وہ آج صدر مملکت کے بجائے فلپائن کی کسی جیل میں گل سڑ رہے ہوتے۔

بدکلامی میں عالمی شہرت حاصل کرنے والے فلپائنی صدر کی پروفائل پر روشنی ڈالیں تو وہ اپنی شخصیت کی طرح کئی اقوام کی اولاد معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی والدہ ایک چینی مسلمان تھیں مگر دو دوتیرتے سخت گیر کیتھولک عیسائی ہیں۔ ان کا خاندانی پس منظر عرب، ملائیشین، چینی اور امریکی بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے سنہ 1973ء میں ایک ایسے خاندان میں شادی کی جو اپنے نام سے یہودی معلوم ہوتا ہے۔ ان کی اہلیہ جرمن نژاد امریکی ہیں جن کی عمر اس وقت 68 برس ہے۔ ’’الیزابیتھ زمیرمان‘‘ شادی سے قبل فلپائن کی ایئرلائن میں فضائی میزبان تھیں۔ پیرانہ سالی کے ساتھ اب وہ چھاتی کے کینسر کا بھی شکار ہیں۔

دو تیرتے کی شدت پسندانہ عادات نے اس کے خاندان کو بھی متحد نہ رہنے دیا۔ شادی کے ستائیس سال بعد اور تین بچوں کی پیدائش کے بعد سنہ 2000ء میں انہوں نے بیوی کو بھی طلاق دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں