.

یمن : حوثی باغیوں کی بچھائی بارودی سرنگوں سے شہریوں کی ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ ( ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کی حوثی تحریک کی وفادار فورسز کی جانب سے جنوب مغربی شہر تعز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انھیں مہلک زخم آئے ہیں۔

ایک مقامی کارکن نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا ہے کہ صرف گذشتہ ماہ کے دوران تعز کے مغرب میں واقع علاقے الوضیہ میں گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے نصب بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں گیارہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ان میں سات بچے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے اسلحہ ڈائریکَٹر اسٹیو گوز کا کہنا ہے کہ ''حوثی اور ان کی اتحادی فورسز بارودی سرنگوں کا استعمال کرکے شہریوں کے بارے میں انتہائی سفاکانہ سنگ دلی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یمن کے متحارب فریقوں کو فوری طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کا سلسلہ بند کردینا چاہیے، انھیں اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا چاہیے اور بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والی ٹیموں کے کام کو بلا روک ٹوک یقینی بنانا چاہیے تاکہ خاندان اپنے گھروں کو بہ حفاظت لوٹ سکیں''۔

ہلاکتیں اور معذوریاں

یمنی حکام اور میڈیکل ذرائع کے مطابق تعز میں مئی 2015ء اور اپریل 2016ء کے درمیانی عرصے میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں 18 افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے تھے۔ان میں ایک کے سوا باقی تمام ہلاکتیں گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے ہوئی تھیں۔

انسانی حقوق کے علمبردار گروپ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق تعز میں پانچ بچے بھی بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں مارے گئے تھے۔چار ہمیشہ کے لیے مستقلاً معذور ہوگئے تھے اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعز میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے مکمل اعداد وشمار معلوم نہیں ہیں اور یمن میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں مجروحین اور مقتولین کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

تعز کے الروضہ اسپتال کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سہیل الضبھانی نے جون میں ایچ آر ڈبلیو کو بتایا تھا کہ اپریل کے بعد سے اسپتال میں ایسے پچاس افراد کا علاج کیا گیا جن کے ایک یا ایک سے زیادہ اعضاء بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں کٹ چکے تھے۔ان افراد میں تیس مرد ،آٹھ عورتیں اور بارہ بچےتھے۔ان سب کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں ہی میں زخمی ہوئے تھے اور اپنی ٹانگوں سے محروم ہوگئے تھے۔

یمن میں مارچ 2015ء میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے تعز کے مختلف حصوں کا محاصرہ کررکھا ہے۔حوثیوں اور ان کی اتحادی فورسز کی پسپائی کے بعد بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والی ٹیمیں تعز میں داخل ہوئی تھیں اور انھوں نے ان علاقوں میں بھی بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی ہیں جن کے بارے میں پہلے یہ سمجھاجاتا تھا کہ وہ تنازعے سے قبل بارودی سرنگوں سے پاک تھے۔

صنعا میں حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے زیر انتظام وزارت انسانی حقوق کے حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ حوثیوں اور ان کی اتحادی فورسز نے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کا استعمال کیا ہے۔تاہم ایک عہدے دار نے ایچ آر ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ حوثی گاڑیوں کو اڑانے کے لیے بارودی سرنگیں استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا صرف فوجی علاقوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یمن نے 1998ء میں بارودی سرنگوں پر پابندی کے معاہدے کی توثیق کی تھی اور افراد مخالف مائنز کے استعمال پر پابندی کا وعدہ کیا تھا۔اس نے اپریل 2002ء میں اقوام متحدہ کو مطلع کیا تھا کہ اس نے افراد مخالف بارودی سرنگوں کے تمام ذخیرے کو تباہ کردیا ہے۔