.

’او آئی سی کا بیان ایرانی عزائم کےخلاف عالم اسلام کا ریفرنڈم ہے‘

شامی قوم بشارالاسد کا اقتدار قبول نہیں کریں گے:الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے ایران کی طرف سے حج اور سعودی عرب سے متعلق سامنے آنے والے تازہ بیانات کی شدید مذمت کرتے انہیں مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنا جارحانہ اور معاندانہ لہجہ مزید سخت کرلیا ہے، مگر تہران کو اپنی سخت پالیسی کا خمیازاہ بھگتنا پڑے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز لندن میں سعودی سفارت خانے میں جمع عرب اور مقامی صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا "ایک ماہ قبل 50 اسلامی ملکوں نے ایران کی عرب خطے میں مداخلت، دہشت گردوں کی حمایت اور مدد اور حزب اللہ ملیشیا کو مدد کرکے عرب ممالک میں فرقہ واریت کی سازشیں کرنے کی مذمت کرکے یہ ثابت کیا تھا کہ اسلامی دنیا تہران کی سازشوں کے خلاف ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "پچھلے مہینے ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ ‘او آئی سی‘ کے پچاس رکن ملکوں کی طرف سے ایران کے جارحانہ اقدامات کی مذمت تہران کے خلاف اسلامی دنیا کا ریفرنڈم تھا۔ اس موقع پر صومالیہ، سوڈان اور جیبوتی سمیت خلیجی ملکوں کی بڑی تعداد نے تہران سے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کرکے یہ پیغام دیا تھا عالم اسلام کو ایران کے جارحانہ عزائم کسی صورت میں قبول نہیں ہیں۔"

ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ ایران اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حج جیسی مقدس عبادت کو بھی سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ ایران کا یہی طرز عمل عالم اسلام کی طرف سے مسترد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے سعودی عرب کی طرف سے حج پروٹوکول کوتسلیم کرنے کے بجائے اس کی مخالفت کرکے اپنے ملک کے ہزاروں افراد کو فریضہ حج کی ادائیگی سے روک دیا۔ ایران کی اس پالیسی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تہران حج کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کررہا ہے اور آئندہ بھی ایران اپنے معاندانہ طرز عمل سے باز نہیں آئے گا۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب نے آج تک کسی سفارت کار کو قتل کیا اور نہ ہی کسی سفارت خانے پر بلوائیوں کے ذریعے حملے کرائے ہیں اور نہ ہی ایران میں اقلیتوں کو حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے اسلحہ اسمگل کیا ہے۔ ایران کے پڑوسی ملکوں کے ذریعے تہران کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت بھی نہیں کی گئی اور نہ ریاض کی طرف سے فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے، مگر دوسری طرف عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدہ کرنے کے فوری بعد تہران نے اپنا معاندانہ لب ولہجہ مزید سخت کردیا ہے۔ لبنان، شام، یمن اور بحرین میں اس کی عملی مثالیں موجود ہیں، حتیٰ کہ ایران سعودی عرب، کویت اور دوسرے علاقائی ممالک میں اسلحہ اسمگل کرنے کی سازشوں سے بھی باز نہیں آیا۔ ایران کی ان تمام سازشوں کے بعد تہران کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات کا تسلسل جاری رہنا مشکل تھا کیونکہ ایران کھل کر سعودی عرب کے خلاف دہشت گردی کی مدد کررہا تھا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران ماضی میں القاعدہ جیسی تنظیموں کی مدد کرتا رہا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ایران اپنے ہاں القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کو کیوں کر نشانہ نہیں بنا رہا ہے۔ اسامہ بن لادن کی دستاویزات نے ایران ۔ القاعدہ گٹھ جوڑ کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا، اس کے بعد ایران کے پاس دہشت گردوں کی مدد سے انکار کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

شام اور بشار الاسد

شام کے بحران سے متعلق برطانوی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ مظلوم شامی عوام بشارالاسد کا اقتدار مزید برداشت نہیں کرے گی۔ بشار الاسد نے اپنے اقتدار کی بقاء اور دوام کے لیے جو کشت وخون اور تباہی وبربادی مچا دی ہے اس کے بعد ان کا اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام میں عبوری حکومت اور سیاسی انتقال اقتدار کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ شام کے بحران کے حل کے لیے پہلے جنیوا اجلاس میں طے پائے طریقہ پرعمل درآمد ہی مسئلے کا بہتر ہے، کیونکہ جنیوا 1 اجلاس میں بشار الاسد پر غیر مشروط طور پر اقتدارچھوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔

عادل الجبیر نے کہا کہ شامی اپوزیشن نے بحران کے حل کے لیے ایک نیا ویژن پیش کیا ہے جس میں جمہوری عمل کےآغاز کے ساتھ ساتھ انتقال اقتدار کو مروجہ سیاسی طریقہ کارکے مطابق آگے بڑھانے کی حمایت کی گئی ہے جب کہ دوسری طرف شامی رجیم اپنی ہٹ دھرمی اور قتل وغارت گری کی پالیسی پر بدستور قائم ہے۔ شامی حکومت کے طرز عمل سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ بشار الاسد مسئلے کےسیاسی حل کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ ان کا ملک شام میں کسی ایک فریق کی فوجی کارروائی کو قبول نہیں کرے گا۔ جو بھی فوجی کارروائی عالمی اتحادی فوج کی نگرانی میں ہوگی وہی قابل قبول ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ داعش اور النصرہ فرنٹ جیسے گروپ اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قراردیے جا چکے ہیں، ان کے خلاف لڑائی جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

یمن اور عراق کا بحران

سعودی وزیرخارجہ نے لندن میں صحافیوں سے بات چیت میں یمن اور عراق میں جاری امن وامان کے بحرانوں پربھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایران نواز حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح نے مل کر آئینی حکومت کا تختہ الٹا ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی طرف سے یمنی قوم کے دفاع میں آپریشن شروع کیا گیا۔ اقوام متحدہ بھی باغیوں کو مسترد کرچکی ہے۔ یمن کے مسئلے کا بہتر حل وہی ہے جس کی وضاحت سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 میں پیش کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں یمنی باغیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آئینی حکومت کےخلاف طاقت کا استعمال بند کریں اور اپنے مطالبات آئینی اور جمہوری طریقے سے پیش کریں۔

ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں باغیوں کو مہلت دینے کے لیے تین ماہ تک جنگ بندی کی مگر حوثی شدت پسندوں نے جنگ بندی کے باوجود سعودی عرب پر 20 بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں سرحد کےقریب بسنے والے کئی شہری شہید ہوئے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے صبرو تحمل سے کام لیا اور بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے تسلسل کی حمایت کی تھی۔

عراق میں جاری سیکیورٹی بحران پر بات کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ عراق کے داخلی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ایران کی مداخلت ہے۔ عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیاؤں کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ تنظیمیں ملک میں فرقہ واریت کے فروغ کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر شہریوں کے قتل عام میں ملوث پائی گئی ہیں۔

عراق میں ایران کی فرقہ وارانہ سازشوں نے دولت اسلامی ‘داعش‘ جیسے گروپوں کو پنپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ایران عراق میں اپنی فرقہ وارانہ مداخلت بند کرے تو عراق کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔