فرانس کا سیکولرازم اسلام کا مخالف نہیں: فرانسو اولاند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے واضح کیا ہے کہ چرچ اور ریاست کی علاحدگی سے متعلق فرانس کے سخت قوانین کا یہ مطلب نہیں کہ ملک کی سب سے بڑی مسلم اقلیت اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہو سکتی ہے۔

وہ جمعرات کے روز دہشت گردی اور جمہوریت کے موضوع پر تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''فرانس میں سیکولرازم کا نظریہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کا مخالف نہیں ہے۔الاّ یہ کہ وہ قانون کی پاسداری کرے''۔

انھوں نے یہ تقریر ایسے وقت میں کی ہے جب فرانس میں مسلم خواتین کے پیراکی کے لباس بورکینی کے پہننے پر عاید کردہ پابندی پر اندرون اور بیرون ملک تند وتیز بحث جاری ہے۔فرانس کی ایک عدالت نے گذشتہ ہفتے کینز میں بورکینی پر عاید پابندی کالعدم قرار دے دی تھی۔

نیس میں قائم عدالت نے قرار دیا تھا کہ کینز کا بورکینی پر پابندی کا حکم بنیادی آزادیوں کے منافی اور غیر قانونی ہے کیونکہ اس سے نقض امن کا کوئی خدشہ لاحق نہیں ہوا اور نہ اس کا کوئی ثبوت ملا ہے۔نیز مشہور ساحلی مقام رویرا میں غیرشائستگی یا حفظان صحت کی بنا پر پابندی کا کوئی جواز نہیں تھا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں