.

شہید بیٹے کی تدفین کے بعد فلسطینی شہری کا سفر حج

شہید بہاء علیان کا جسد خاکی 10 ماہ تک صہیونی فوج کی تحویل میں رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی دیگر ان گنت اقسام میں ایک یہ بھی ہے کہ قابض صہیونی فوج نہتے فلسطینیوں کومزاحمتی کارروائیوں کے الزام میں ماورائے عدالت قتل کے بعد ان کے جسد خاکی کو کئی کئی ماہ تک سرد خانوں میں پھینک دیتی ہے، جہاں ان کے جسم گلتے سڑتے رہتے ہیں۔

ایسے ہی ایک فلسطینی بہاء علیان ہیں جنہیں 10 ماہ قبل بیت المقدس میں ایک مزاحمتی کارروائی کےدوران گولیاں مار کر شہید کیا گیا اور شہید کا جسد خاکی حسب معمول قبضے میں لے لیا گیا۔

شہید فلسطینی نوجوان بہاء علیان کےوالد ابو بہاء محمد علیان خود ایک قانون دان اور وکیل ہیں۔ انہوں نے بیٹے کا جسد خاکی حاصل کرنے کے لیے کئی ماہ تک ان تھک جدوجہد کی۔ اسرائیلی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے مگرصہیونی فوج اور عدلیہ نے ان کی کوئی بات نہ سنی۔

منفی 70 درجے سینٹی گریڈ والے ایک سرد خانے میں پڑے شہید کے جسد خاکی کو اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کرنا محمد علیان کا دیرینہ خواب تھا۔ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے محمد علیان کو چندہفتے قبل خوش خبری دی گئی کہ اس کا نام خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے فلسطینی شہداء و اسیران کے لواحقین کے لیے خصوصی حج اسکیم میں شامل کیا گیا اور وہ اس بار فریضہ حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے سفر حج کے لیے تیاری شروع کردی۔

حجاز مقدس روانگی سے دو روز قبل انہیں اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ اپنے شہید بیٹے کا جسد خاکی لے جاسکتے ہیں مگر اس کی نماز جنازہ میں بیس سے بھی کم افراد ہوں ورنہ انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ محمد علیان نے اپنے شہید بیٹے کا جسد خاکی وصول کیا اور اسے اپنے ہاتھوں سے سپردک خاک کرنے کے بعد اللہ کے گھر کا قصد کیا۔

ابو بھاء محمد علیان اس وقت مکہ مکرمہ میں ہیں، جہاں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی ان سے بات چیت کی۔ محمد علیان نے بتایا کہ صہیونی فوج نے اس کے بیٹے کو 10 مہینوں تک ایک سرد خانے میں رکھا۔ شہید کا جسم تو ٹھیک تھا مگر چہرے کے آثار کافی حد تک متاثر ہوئے تھے اور چہرہ ناقابل شناخت ہوچکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں مجھے جواں سال بیٹے کے چھن جانے کا دکھ ہے وہیں اللہ نے مجھے اپنے گھر کے دیدار کا شرف بخش کر اس دکھ کو ختم کردیا ہے۔ اب میں اللہ کے گھرمیں یہ دعا کرنے آیا کہ پروردگار بہاء علیان اور دیگر فلسطینی شہداء کی قربانیوں کو قبول کرے اور ان قربانیوں کے صلے میں اہل فلسطین کو آزادی کی نعمت سے بہرہ مند فرمائے۔

خیال رہے کہ بہاء علیان نامی ایک فلسطینی نوجوان نے دس ماہ قبل بیت المقدس میں ایک اسرائیلی بس میں گھس کرپانچ یہودی قتل کردیے تھے۔ اسرائیلی پولیس نے اسے فورا گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ صہیونی حکام نےپچھلے چند ماہ کے دوران مزاحمتی کارروائیوں کے الزام میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیا۔ ان میں سے 50 فلسطینی شہداء کے جسد خاکی قبضے میں لیے جن میں سے ایک درجن شہداء کی میتیں صہیونی فوج کی تحویل میں ہیں۔