فرانس دہشت گردی کی سازش ناکام، تین خواتین شدت پسند گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقے ایسن میں گذشتہ روز پولیس نے ایک کارروائی کے دوران تین خواتین کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کی گئی خواتین شدت پسندانہ نظریات رکھتی ہیں اور وہ ممکنہ طور پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں مگر انہیں کسی بھی کارروائی سے قبل حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پیرس میں موجود ’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے "نوٹروڈام کیتھڈرل" نامی چرچ کے قریب ایک مشتبہ کار کو روک کر اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی تو کار میں سوار تین خواتین میں سے ایک نے ایک پولیس اہلکار پر چاقو سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں چاقو بردار خاتون بھی شدید زخمی ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں مشتبہ کار سے خطرناک گیس سے بھری سات بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

بعد ازاں معلوم ہوا ہے کہ پولیس پر چاقو سے حملہ کرنے والی خاتون کار کے مالک کی بیٹی ہے۔ گرفتاری کے بعد تینوں خواتین کو تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیرداخلہ برنار کازنوف نے پیرس کے مضافاتی علاقے ایسن میں ایک چرچ کے قریب سے تین مشتبہ شدت پسند خواتین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار کی گئی خواتین مشکوک ہیں اور لگتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

وزیرداخلہ نے ایک ٹی وی بیان میں بتایا کہ گرفتار کی گئی خواتین کی عمریں 39، 23 اور 19 سال ہیں۔ وہ تینوں شدت پسندانہ خیالات کے ساتھ ساتھ متعصب ہیں جو کسی پرتشدد کارروائی کے لیے تیاری کررہی تھیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران دہشت گردی کے متعدد خونی واقعات میں کم سے کم 200 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں