.

ایران میں دو نئے جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ساحلی شہر بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ میں دو ایرانی اور روسی فرموں نے دو اضافی ری ایکٹروں کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے۔

اس منصوبے کے پراجیکٹ مینجر محمود جعفری نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ایک ہزار میگاواٹ کے دو ری ایکٹروں کی تعمیر کا کام روس کی فرم رستم کی سربراہی اور نگرانی میں ایران کی نیو کلئیر پاور پروڈکش اور ڈویلپمنٹ کمپنی کررہی ہے۔ان کی تکمیل میں کوئی ایک عشرہ لگے گا اور ان پر کوئی دس ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ان دونوں یونٹوں کے آپریشنل ہونے کے بعد سالانہ ایک کروڑ دس لاکھ بیرل تیل کی بچت ہوگی اور ستر لاکھ ٹن گرین ہاؤس کے اخراج سے بھی بچا جا سکے گا۔اس منصوبے پر قریباً آٹھ ہزار کارکنان کام کررہے ہیں۔

رستم کے سربراہ سرگئی کیرینکو نے بوشہر میں سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر کہا ہے کہ ''پہلے ری ایکٹر کی تعمیر نے ثابت کیا ہے کہ روس نے دنیا کے سیاسی موسم میں تبدیلیوں کے باوجود غیرملکی شراکت داروں سے کیے گئے وعدے ہمیشہ پورے کیے ہیں''۔

روس کی ریا نووستی نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ نئے ری ایکٹر بین الاقوامی پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں روس کی پوزیشن کی مضبوطی کی جانب ایک سنجیدہ قدم ہے۔

واضح رہے کہ ایران توانائی کے لیے تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور آیندہ برسوں کے دوران بیس جوہری تنصیبات تعمیر کرے گا۔ان میں سے نو روسی فرموں کے تعاون سے تعمیر کی جارہی ہے۔روس نے ایران کا بوشہر میں واقع ایک ہزار میگاواٹ کا پاور پلانٹ تعمیر کیا تھا۔اس نے ستمبر 2011ء میں کام شروع کردیا تھا۔اس سے اگلے سال اس نے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پیداوار شروع کردی تھی۔