.

ایران: امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کا دعویٰ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے ایک سینیر کمانڈر نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ خلیج فارس میں ایرانی کشتیاں گشت کرنے والے امریکی بحری جہازوں کو ہراساں کررہی ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر جنرل مسعود جزائری کا کہنا ہے کہ ''ایرانی کشتیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہیں اور وہ طے شدہ معیار اور قواعد وضوابط کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔اس لیے ان کے دعوے درست نہیں ہیں بلکہ وہ ایرانی فوجیوں سے خوف کا مظہر ہیں''۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کور کی سات کشتیاں 4 ستمبر کو یو ایس ایس فائربولٹ کے نزدیک آئی تھیں۔یہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ایرانی کشتیوں اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے ٹاکرے کا پانچواں واقعہ تھا لیکن بریگیڈئیر جنرل الجزائری کا کہنا ہے کہ یہ دعوے مبالغہ آمیز ہیں۔

ان کا کہنا ہے:''جب ایرانی کشتیاں چند کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتی ہیں تو امریکی یہ دعوے کرتے ہیں کہ ایرانی کشتیاں ان کے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے کے قریب آگئی تھیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران کی میرین کور کواس علاقے سے دور سے تعلق رکھنے والے دشمنوں کے پروپیگنڈا سے کبھی نہیں روکا جاسکے گا اور خطے میں اس کے جہاز اسلامی جمہوریہ ایران کی سمندری حدود اور اقتصادی مفادات کا دفاع کررہے ہیں''۔

امریکی بحریہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دو ممالک کے جہازوں اور کشتیوں کا 2015ء میں تین سو مرتبہ امریکی جہازوں سے ٹاکرا ہوا تھا۔اس سال کی پہلی ششماہی کے دوران ڈھائی سو مرتبہ مڈ بھیڑ ہوئی ہے اور ان میں سے دس فی صد ٹاکرے غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ تھے۔