.

شام میں داعش کو شکست دینا ترکی کی ذمے داری ہے: صدر طیب ایردوآن

شام کے شمالی علاقے میں ترکی کے فضائی حملوں میں داعش کے 20 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ''داعش کو شکست دینا ترکی کی ذمے داری ہے اور شام میں جاری کارروائی اس مقصد کی جانب پہلا قدم ہے۔شام میں داعش نامی اس تنظیم کو اس انداز میں ختم کرنا ضروری ہے کہ وہ ہمارے ملک کے اندر کارروائیوں کے قابل نہ رہے''۔

انھوں نے کہا کہ ترکی 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے زیادہ مضبوط ،پرعزم اور زیادہ فعال ہے۔شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کے بعد سے چھے ترکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ترکی نے الزام عاید کیا ہے کہ وہ داعش کے راکٹ حملوں میں کام آئے تھے۔

صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ فرات کی ڈھال آپریشن داعش کے خاتمے تک جاری رہے گا اور ترک سکیورٹی فورسز کے گرنے والے خون کا ایک قطرہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

ترک فوج کے سربراہ نے بھی قومی دن کے موقع پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ''شام میں داعش اور کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فرات کی ڈھال فیصلہ کن انداز میں جاری رہے گا''۔

درایں اثناء ترکی کے شام کے شمالی علاقے میں فضائی حملوں میں داعش کے بیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔سی این این ترک نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ لڑاکا طیاروں نے ہفتے کی رات شمالی قصبے تل الہوا میں تین عمارتوں ،ایک گاڑی اور ایک موٹر بائیک کو بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔

ترکی شام کے سرحدی علاقے میں 24 اگست سے''فرات کی ڈھال'' کے نام سے داعش اور شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔اس کارروائی کے آغاز کے بعد سے ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہر جرابلس کے علاوہ متعدد دیہات اور قصبوں پر داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔ ترک فورسز کی شامی علاقے میں مداخلت کے بعد سے داعش کو مسلسل پسپائی کا سامنا ہے جبکہ کرد ملیشیا وائی پی جی نے بھی اب اپنی جنگی کارروائیاں محدود کردی ہیں۔