.

جوہری تجربے پر پابندیوں کی دھمکیاں مضحکہ خیز ہیں: شمالی کوریا

امریکا ،جاپان اور جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کے خلاف مزید یک طرفہ پابندیوں سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے اپنے پانچویں اور سب سے بڑے جوہری تجربے کے ردعمل میں مزید عالمی پابندیوں کی دھمکیوں کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور اپنی جوہری طاقت کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

شمالی کوریا نے جمعے کے روز جوہری بم کا اب تک سب سے بڑا تجربہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے بیلسٹک میزائل کے ذریعے جوہری ہتھیار لے جانے میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے۔اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے حریف اور اقوام متحدہ اس کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔

امریکا نے شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے فوری بعد مزید پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی دی تھی۔امریکا کے ایک خصوصی ایلچی نے اتوار کے روز ٹوکیو میں جاپانی عہدے داروں سے ملاقات کی ہے اور بعد میں کہا ہے کہ امریکا ،جاپان اور جنوبی کوریا شمالی کوریا کے خلاف مزید یک طرفہ پابندیاں عاید کر سکتے ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے وزارت خارجہ کے ترجمان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ترجمان نے کہا ہے کہ ''اوباما کے گروپ دنیا میں ادھر ادھر گھوم پھر رہے ہیں اور بے معنی پابندیوں کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔یہ سب مضحکہ خیز ہے۔ان کے تزویراتی ضبط وتحمل کی پالیسی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور وہ اب جانے کے لیے اپنا بوریا بستر گول کررہے ہیں''۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ''جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں ،مقدار اور معیار میں قومی جوہری طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ ہمارے وقار اور امریکا سے جوہری جنگ کے خطرے کی دھمکیوں سے ملک کا تحفظ کیا جا سکے''۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے نئے جوہری تجربے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک قرارداد پر کام کا آغاز کررہی ہے۔امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے پندرہ رکن ممالک پر مشتمل کونسل پر زوردیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عاید کرے۔

امریکی صدر براک اوباما نے جنوبی کوریا کے صدر پارک گیون ہائی اور جاپانی وزیراعظم شینزو ایبی سے جمعے کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''انھوں نے سلامتی کونسل اور دوسری طاقتوں سے مل کر شمالی کوریا کے خلاف موجودہ پابندیوں کے سخت نفاذ اور نئی پابندیوں سمیت اضافی نمایاں اقدامات سے اتفاق کیا ہے''۔