.

لیبیا : خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز کا تیل کی دو بڑی بندرگاہوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی پر قابض سابق جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز نے ملک کی تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی دو بڑی بندر گاہوں پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا ہے اور ان کی تیسری بندرگاہ پر تعینات محافظوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔

لیبیا کی پٹرول تنصیبات کے گارڈ ( پی ایف جی) کے ترجمان علی الحاسی نے کہا ہے کہ خلیفہ حفتر کی فورسز نے الزويتينہ ،راس لانوف اور السدر کی بندر گاہوں پر حملے کیے ہیں۔انھوں نے راس لانوف اور السدر پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی الزویتینہ اور اس کے نزدیک واقع قصبے اجدابیا میں طرابلس حکومت کی وفادار فورسز سے لڑائی جاری ہے۔

ایک انجنیئر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز راس لانوف اور السدر کی بندرگاہوں میں داخل ہوگئی ہیں اور السدر میں جھڑپوں کے دوران تیل کے ایک ٹینک کو آگ لگ گئی ہے۔

یہ دونوں بندر گاہیں 2014ء سے بند ہیں۔پٹرول تنصیبات کے محافظوں کا حال ہی میں طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ساتھ انھیں دوبارہ کھولنے کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا تاکہ وہاں سے تیل کی برآمد شروع کی جاسکے۔

پی ایف جی کا کہنا ہے کہ وہ الزويتينہ کو بھی دوبارہ کھولیں گے لیکن خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز (لیبیا نیشنل آرمی) نے اس پر قبضے کے لیے چڑھائی کردی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ اس کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں۔لیبیا کی قومی تیل کمپنی نے الزويتينہ سے تیل کسی اور جگہ منتقل کرنے کا آغاز کردیا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ لڑائی کی صورت میں یہ تیل ضائع ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ خلیفہ حفتر اور لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی دوسری عسکری اور سیاسی قوتوں نے طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس حکومت کو مشرقی لیبیا میں اپنی عمل داری بھی قائم نہیں کرنے دی ہے۔