.

ایرانی انٹیلجنس کے وزیر کا دورہ جرمنی تنازع کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہودی تنظیم "امریکن جیوئش کونسل"AJC نے جرمن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی انٹیلجنس کے وزیر محمود علوی کے برلن کے خفیہ دورے کے حوالے سے وضاحت پیش کریں۔ ایرانی اپوزیشن کا یہ مطالبہ ہے کہ سیاسی قیدیوں کے قتل عام میں ملوث مذکورہ وزیر کو گرفتار کیا جائے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق تنظیم نے ایک بیان میں ایران کے حوالے سے جرمنی کی پالیسیوں پر اپنے سخت اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔

ادھر مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں یہودیوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمAJC کے جرمنی میں موجود بیورو نے جرمن حکام کو تحریر کیے گئے ایک خط میں ایرانی وزیر کے دورے کی وجوہات جاننے کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایرانی انٹیلجنس مشرق وسطی میں عدم استحکام پھیلانے والی دہشت گرد تنظیموں مثلا لبنانی حزب اللہ جیسی تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ تہران کی انٹیلجنس جرمنی کی سرزمین پر غیرقانونی طور پر نیوکلیئر ٹکنالوجی کے حصول کی کوشش میں شریک تھی۔ یہ بھی ظاہر ہو چکا ہے کہ اس نے برلن میں جلاوطنی گزارنے والے ایرانی سیاسی شخصیات کی موت میں کردار ادا کیا "۔

اسی طرح تنظیم کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ علوی کا دورہ ایرانی صدر حسن روحانی کے سرکاری دورے کی جانب ایک اقدام بھی ہوسکتا ہے۔ بالخصوص گزشتہ برس نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد تہران اور برلن کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بہتری آنے کے بعد۔ جرمنی کے معیشت کے وزیر زيگمر گیبریل نے دو ماہ قبل ایک اقتصادی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے ایران کا دورہ کیا تھا۔ وہ معاہدے کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے مغربی دنیا کے پہلے اعلی سیاسی ذمہ دار تھے۔

دوسری جانب ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل نے مطالبہ کیا کہ ایرانی انٹیلجنس کے وزیر کو جرمنی پہنچنے پر گرفتار کیا جائے تاکہ اس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت کی جا سکے۔

ایرانی نظام کے زیر انتظام میڈیا نے باور کرایا تھا کہ علوی جرمن سکیورٹی ذمہ داران کی دعوت پر بات چیت کے لیے برلن روانہ ہوئے۔

کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملائی نظام کی انٹیلجنس کی وزارت 1988 میں 30 ہزار سیاسی قیدیوں کے قتل اور بیرون ملک 350 سے زیادہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے جن میں 1992 میں برلن میں میکونوس ریستوران میں ہلاکت کا واقعہ شامل ہے۔

گزشتہ جولائی میں برلن کی عدالت نے ایک ایرانی باشندے کو دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ مذکورہ شخص پر مجاہدین خلق کے خلاف ایرانی انٹیلجنس کی وزارت کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں کا الزام تھا۔

ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل کے بیان کے مطابق ایرانی وزیر محمود علوی ایران میں اپوزیشن ارکان کے تعاقب اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے ذمہ دار ہونے کی وجہ سے ، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے زیر پابندی شخصیات میں شامل ہے۔