.

حوثی ناکہ بندی کے شکار یمنی عوام عید پر فاقہ کشی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے ایران نواز حوثیوں اور مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کی طرف سے شہریوں کے محاصرے، گولہ باری، بمباری، طبی اور غذائی مواد کی عدم فراہمی کے باعث اہالیان یمن سنگین مشکلات کا سامنا کرنے لگے ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر اہل یمن کی مشکلات ایک بار پھر تازہ ہوگئی ہیں۔ بیشتر علاقوں میں سکونت پذیر شہری باغیوں کے مسلسل محاصرے کے باعث فاقوں کی زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے برادر ٹی وی الحدث کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ برس کے محاصرے کے نتیجے میں تعز شہر بھوتوں کی بستی دکھائی دیتا ہے، جہاں سوائے موت کے اور کسی چیز کے آثار نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ متعدد بار تعز کے محاصرے کے سنگین نتائج پر تنبیہ کرچکی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تعز میں 25مقامات پر پناہ گزین کیمپ تو کیے گئے ہیں مگران میں رہنے والے یمنی شہریوں کو کھانے کوخوراک اور علاج کے لیے ادویات کی سہولت میسر نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعز کے محصورین کے لیے خوراک کے 50 ہزار پیکٹوں کی ماہانہ بنیادوں پر فراہمی کی ضرورت ہے جب کہ بعض زیادہ متاثرہ اور مصیبت زدہ شہریوں کے لیےخوراک کے ایک لاکھ پیکٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تعز اور اس کے اطراف میں دو ملین افراد پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ یمنی باغیوں نے تعز اور اطراف کے یمنی شہریوں کے مالی مویشی اور بھیڑ بکریاں تک ان سے سلب کرلی ہیں۔ جو مویشی بچ گئے تھے وہ چارے کی قلت اور دیکھ بحال نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کو ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انسانی بحران کا عالم یہ ہے کہ اسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات، ادویہ اور علاج کا سامان ناپید ہے حتیٰ کہ آکسیجن سلینڈر تک موجود نہیں ہیں۔ جس کے نتیجے میں مریض اور زخمی بے یارو مدد گارہیں۔ تعز جیسے محاصرہ زدہ علاقے میں مصائب کا شکار یمنی شہریوں کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی ضرورت ہے۔