.

عراق کی شاہراہوں پر سعودی عرب مخالف ایرانی مہم

بغداد سرکار ایران نواز عناصر کے ہاتھوں یرغمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رجیم دنیا کے کسی بھی حصے میں کہیں اور کسی بھی وقت سعودی عرب کے خلاف سازشوں کے تانے میں مصروف عمل رہتا ہے۔ ان دنوں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں سعودی عرب کے خلاف ایک نئی مذموم مہم شروع کر رکھی ہے۔

’العربیہ‘ نیوز چینل کے مطابق بغداد کی سڑکوں کے اطراف میں بڑے بڑے بینرز اور بورڈ لگائے گئے ہیں جن پر سعودی عرب کے خلاف گالم گلوچ اور الریاض کو بدنام کرنے کے لیے اشتعال انگیزی نعرے تحریر کیے گئے ہیں۔ بغداد کی سڑکوں پر یہ تماشا ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کی کارستانی ہے جو ماضی میں بھی سعودی عرب دشمنی میں پیش پیش رہی ہے۔

ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغداد میں سعودی عرب مخالف مہم ایران کے سپریم لیڈر کی الریاض کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی کا تسلسل ہے۔

اس سے قبل ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی عرب اور مصر کے خلاف اسی طرح کی مکروہ مہم چلائی گئی تھی۔ تہران کی سڑکوں پر سابق مصری صدر انور سادات کے قاتل خالدالاسلامبولی کی قد آدم تصاویر پرمبنی بورڈ لگائے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تہران بلدیہ نے ایک شاہراہ خالد الاسلامبولی کے نام سے منسوب کردی تھی۔ البتہ کسی عرب ملک میں سعودی عرب کے خلاف ایران کی مجرمانہ مہم کی پہلی بڑی مثال ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عراقی حکومت اور انتظامیہ سعودی عرب کے خلاف ایرانی مہم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ عراق میں حکومت اور اصل طاقت واختیارات ایران نواز شیعہ گروپوں بالخصوص حشدالشعبی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نوعیت کی مکروہ مہم صدام حسین کے گئے گذرے دور میں بھی نہیں چلائی جا سکی تھی جیسا کہ آج کی عراقی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے۔

صدام حسین کے 23 سالہ دور اقتدار میں بغداد کی سڑکوں پر سعودی عرب کے خلاف ایک تصویر بھی نہیں لہرائی گئی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو حج کے انتظامات کا حق نہیں۔ مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ وہ حج کے امور سعودی عرب سے واپس لینے پر غور کریں۔