عرب خلیجی ریاستوں کا امریکا کے نائن الیون بل پر اظہارِ تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی عرب ریاستوں نے امریکی کانگریس میں حال ہی میں منظور کردہ ایک بل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس بل کے تحت نائن الیون حملوں کے مہلوکین کے رشتے دار سعودی عرب کے خلاف ہرجانا دلا پانے کے دعوے دائر کرسکیں گے۔

چھے خلیجی عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''تنظیم کو اس بل پر گہری تشویش لاحق ہے۔یہ قانون ریاستوں کے مابین تعلقات کے اصولوں اور بنیادوں بالخصوص خود مختاری کے استثنیٰ کے منافی ہے''۔

امریکی ایوان نمائندگان نے جمعے کے روز ''انصاف برخلاف اسپانسرز برائے دہشت گردی ایکٹ'' کی اتفاق رائے سے منظوری دی تھی۔امریکی سینیٹ چار ماہ قبل اس بل کی منظوری دے چکی ہے اور اب اگر صدر براک اوباما اس پر دستخط کردیتے ہیں تو اس کے بعد یہ قانون بن کر نافذ العمل ہو جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ صدر اس بل کو ویٹو کرسکتے ہیں لیکن سینیٹ اور ایوان نمائندگان اس ویٹو کو دو تہائی اکثریت سے ختم کرسکتے ہیں۔

جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ''امریکی انتظامیہ اس قانون کی توثیق نہیں کرے گی کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک منفرد مثال ہوگی''۔ دو خلیجی ممالک قطر اور متحدہ عرب امارات نے الگ سے بھی بیانات جاری کیے ہیں اور ان میں اس بل پر تنقید کی گئی ہے۔

سعودی عرب امریکا کا دیرینہ اتحادی ملک ہے۔11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر طیارہ حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ ان حملوں میں تین ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مذکورہ قانون کے تحت دہشت گردی کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے اور مہلوکین کے رشتے دار قصور وار غیرملکی حکومتوں کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں ہرجانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ غیرملکی حکومتیں امریکی سرزمین پر حملوں میں کسی نہ کسی طرح ملوّث پائی گئی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں