گذشتہ برس منیٰ میں بھگدڑ کا واقعہ ایرانیوں کے سبب پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر "حج سیزن میں سالہا سال سے ایرانی نظام کے جرائم" کے نام سے ایک تاریخی متن جاری کیا ہے۔ متن میں تہران کی جانب سے اپنے حجاج کو حج سیزن کے دوران ہنگامہ آرائی پر اکسا کر ، فریضہ حج کو سیاست سے آلودہ کرنے کی مسلسل کوششوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس عیدالاضحیٰ کے روز منیٰ میں پیش آنے والے بھگدڑ کے واقعے کی منصوبہ بندی ممکنہ طور پر پہلے سے کی گئی تھی۔

یہ واقعہ جس کو سعودی پریس ایجنسی نے مشکوک قرار دیا ہے ، منیٰ میں دو سڑکوں کے سنگم کے نزدیک پیش آیا۔ اس کا بنیادی سبب 300 ایرانی حاجیوں کا مخالف سمت میں لوٹ جانا تھا۔ اس کے ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب کے متعدد ارکان کے مقامات مقدسہ پہنچنے کی بھی خبریں موصول ہوئیں جن کی آمد کا مقصد ان مقامات پر عدم استحکام پیدا کرنا اور سعودی عرب کو ملامت کا نشانہ بنانا تھا۔

ایس پی اے نے ان متعدد واقعات پر روشنی ڈالی ہے جن میں حج سیزن کے دوران سعودی عرب کو تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان سازشوں کا آغاز آیت اللہ خمینی کے دور میں ہوا تھا اور پھر ایران میں علی خامنہ ای کے ولایت سنبھالنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں