.

بھارت : لوٹ مار اور بلووں کے الزام میں قریباً 400 افراد گرفتار

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گڑھ بنگلور میں عدالتی فیصلے کے خلاف پرتشدد ہنگاموں کے بعد کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی گڑھ جنوبی شہر بنگلور میں پولیس نے بلووں ،ہنگاموں اور لوٹ مار کے الزام میں قریباً چار سو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بنگلور اور ریاست کرناٹک کے دوسرے شہروں میں سوموار کو یہ ہنگامے پانی کے ایک تنازعے کے بارے میں ایک عدالتی فیصلے کے خلاف شروع ہوئے تھے۔پولیس نے سوموار کی شب مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

مشتعل مظاہرین نے بیسیوں بسوں ،ٹرکوں اور کاروں کو نذرآتش کردیا اور دکانوں اور کاروباری مراکز پر حملے کیے ہیں جس کے بعد حکام نے بنگلور میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ریاست کے ایک اعلیٰ پولیس افسر این ایس میگاریکھ نے کہا ہے کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد شہر میں کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔البتہ منگل کے روز ریاست کے بعض دیہی علاقوں میں مظاہرین نے چند ایک ٹرکوں کو نذر آتش کردیا ہے۔

کرناٹک سے شروع ہونے والے دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر اس ریاست اور پڑوس میں واقع ریاست تامل ناڈو کے درمیان عشروں سے تنازعہ چل رہا ہے۔بھارت کی عدالت عظمیٰ نے گذشتہ ہفتے ریاست کرناٹک کو تامل ناڈو کی جانب بہنے والے اس دریا میں پانی چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

کرناٹک کے وزیراعلیٰ صدرمیاہ کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی حکم کے پابند ہیں لیکن دریا میں اتنا پانی نہیں ہے کہ اس کو چھوڑا جاسکے۔

پُرتشدد ہنگاموں کے بعد بنگلور کی سڑکوں پر ہزاروں پولیس اہلکار گشت کررہے تھے۔آج شہر میں تمام اسکول ،دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں اور میٹرو ریل سمیت شہر کے مکینوں کو کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی۔

بھارت میں کاشت کار اپنی فصلوں کو آب پاش کرنے کے لیے مون سون کی بارشوں اور دریائی پانی پر انحصار کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ مون سون کے دوران بارشیں کم ہونے کی وجہ سے دریا اور آبی ذخائر خشک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلور میں بھارت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور انفوسیز لیمیٹڈ ،وائپرو لیمیٹڈ اور سام سنگ الیکٹرانکس ایسی کثیر قومی کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔اس سال مئی میں ایپل نے بھی اس شہر میں ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔