مقبوضہ کشمیر:عیدالاضحیٰ انسانی خون سے رنگین ، دو شہید ، 22 زخمی

ریاست کے شہروں اور قصبوں میں عید کے بڑے اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی جبر وتشدد کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور بھارت مخالف مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں دو افراد شہید اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

ریاستی حکام نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کو آزادانہ نقل وحرکت اور بھارت مخالف احتجاج سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کررکھا تھا مگر اس کے باوجود مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں کشمیریوں نے احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اور تین مقامات پر بھارتی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے وادیِ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر ،شمالی شہر بانڈی پورہ اور جنوبی شہر شوپیاں میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور پیلیٹ گولیاں چلائی ہیں۔

بھارتی حکام نے عید گاہوں اور بڑی مساجد میں عید کی نماز کے لیے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں نے اپنے محلوں کی مساجد یا نزدیکی جگہوں پر نماز عید ادا کی ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی اطلاع کے مطابق سنہ 1990ء کے بعد چھبیس سال میں یہ شاید پہلا موقع ہے کہ سری نگر میں عید گاہ اور درگاہ حضرت بل پر عید کے اجتماعات منعقد نہیں ہوئے ہیں۔شہر میں کرفیو کی وجہ سے بیشتر کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہی ہیں اور لوگوں نے اپنے گھروں میں بند رہ کر عید گزاری ہے۔بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے بھی ریاست کی فضائی نگرانی کرتے رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ دوماہ سے حریت پسند نوجوان برہان وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے واقعے کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اس دوران بھارتی فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں اور جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد چھیتر ہوگئی ہے اور سات ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے بہت سے افراد کی آنکھیں بھارتی فورسز کی غیرمہلک ہتھیاروں سے چلائی گئی پیلیٹ گولیوں سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور وہ بینائی کھو بیٹھے ہیں۔

احتجاج کے دوران زخمی ہونے والوں کو اسپتالوں سے بھی گرفتار کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کے بھارت کے خلاف غیظ وغضب میں اضافہ ہوا ہے۔ریاستی حکام کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال کررہے ہیں۔انھوں نے ریاست کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کو بھی معطل کررکھا ہے۔اس وجہ سے کشمیری بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں