.

اورلینڈو میں عید الاضحیٰ سے قبل مسجد نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست فلوریڈا کے شہر فورٹ پائیرس میں نامعلوم بلوائیوں نے عید الاضحیٰ سے قبل ایک مسجد کو آگ لگادی ہے جس سے اس عبادت گاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اس مسجد کا قصور یہ ہے کہ یہاں اورلینڈو میں ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والا عمرمتین نماز ادا کرنے کے لیے آیا کرتا تھا۔

سینٹ لوسی کاؤنٹی کے شیرف کے ترجمان میجر ڈیوڈ تھامپسن نے کہا ہے کہ فورٹ پائیرس میں واقع اسلامی مرکز میں اتوار کی نصف شب اور نائن الیون حملوں کی پندرھویں برسی کے موقع پر آگ لگائی گئی تھی۔

اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے اور اس سے مسجد کی مرکزی عمارت اور اس کے ساتھ واقع کمرے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس مسجد میں عمر متین کے والد سمیت کم سے کم ایک سو مسلمان پنج وقتہ نماز کی ادائی کے لیے آتے ہیں۔

حکام نے مسجد میں نصب سکیورٹی کیمرے کی ویڈیو جاری کی ہے۔اس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص عمارت میں داخل ہورہا ہے۔اس کے ہاتھ میں مائع مواد کی ایک بوتل اور بعض کاغذات تھے۔وہ جب عمارت سے باہر نکلتا ہے تو اس کو آگ لگ جاتی ہے۔وہ اپنے ہاتھ ہلا رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ اسی نے آگ لگائی ہے۔

فلوریڈا میں امریکی اسلامی تعلقات کونسل کے ترجمان ولفریڈو عمرو رویز نے کہا ہے کہ ''آگ لگانے والا ہماری کمیونٹی کو دہشت زدہ کررہا تھا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں تھا اور ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے''۔

واضح رہے کہ عمر متین نے 12 جون کو اورلینڈو کے پلس نائٹ کلب میں ایک پارٹی میں شریک لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس سےانچاس افراد ہلاک اور تریپن زخمی ہوگئے تھے۔اس کو بعد میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس نے مبینہ طور پر داعش کی بیعت کررکھی تھی۔

عمرو رویز اور مسجد کے پیش امام حماد رحمان کا کہنا ہے کہ اورلینڈو میں قتل عام کے واقعے کے بعد سے مسجد اور اس کے عبادت گزاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔پہلے تو دھمکی آمیز پیغامات آتے تھے۔ پھر ٹینکروں کے ڈرائیور حضرات نماز جمعہ کی ادائی کے بعد مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر پانی پھینک دیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ ایک نمازی کو فجر کے لیے آتے ہوئے پارکنگ ایریا میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اب آگ لگا دی گئی تھی۔