جرمنی داعش کی اسلحہ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے 650 فوجی بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جرمنی کی کابینہ نے بحر متوسطہ میں داعش کے جنگجوؤں کی اسلحہ اسمگل کرنے کی کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے ساڑھے چھے سو فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔یہ فوجی نیٹو کے نئے مشن کے تحت کارروائیوں میں حصہ لیں گے۔

نیٹو کے ''آپریشن سمندر گارجین'' میں جرمن فوجی 2017ء کے اختتام تک شریک رہیں گے۔غیر معمولی ہنگامی حالات میں اس مشن کے لیے جرمن فوجیوں کی تعداد میں عارضی طور پر اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

بحر متوسطہ میں فوجیوں کی یہ تعیناتی یورپ اور نیٹو میں جرمنی کے فوجی کردار کو وسعت دینے کی مظہر ہے۔ جرمن وزیر دفاع ارسلا وان ڈیر لیین مسلح افواج کی تعداد میں اضافے اور انھیں فوجی سازوسامان کی فراہمی کے لیے حکومت سے تقاضا کرچکی ہیں۔

واضح رہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ممالک نے پولینڈ میں جولائی میں منعقدہ ایک اجلاس میں بحر متوسطہ میں ایک نیا مشن شروع کرنے سے اتفاق کیا تھا۔جرمن بحری جہاز یورپی یونین کے صوفیہ نامی ایک اور فوجی مشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔اس کا مقصد لیبیا کے ساحلی علاقوں سے ہتھیاروں اور انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں