.

خطبہ حج پر حوثی باغی اور علی صالح کے وفادار الجھ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میدان عرفات میں وقوف اور رکن اعظم کی ادائیگی کے دوران پیش کیے گئے خطبہ حج پر یمن کے حوثی لیڈروں اور ان کے حامی منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے درمیان ایک نئی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران نواز حوثیوں نے علی صالح ماتحت نشریات پیش کرنے والے ایک مقامی ٹی وی چینل پر امام کعبہ الشیخ عبدالرحمان السدیس کا خطبہ حج نشر کیے جانے پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف علی صالح کے دفتر سے جاری ایک بیان میں دفاعی پوزیشن اختیار کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ امام کعبہ کا خطبہ حج فنی خرابی کےنتیجے میں نشر ہوگیا تھا۔

حوثی باغیوں اور علی صالح کے وفاداروں کے درمیان تنازع اس وقت پیدا ہوا جب الشیخ عبدالرحمان السدیس نے خطبہ حج کے دوران خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور یمن میں جاری فیصلہ کن طوفان آپریشن کے حق میں دعا کی۔

مسجد نمرہ سے پیش کیے جانے والے خطبہ حج کو یمنی ٹی وی پر نشر کیے جانے پر حوثی باغیوں نے شدید رد عمل ظاہر کیا تھا۔

دوسری طرف علی صالح کے دفتر سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امام کعبہ کا خطبہ حج فنی خرابی کے باعث نشر ہوگیا تھا۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کے درمیان سخت الزامات کا تبادلہ جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے پر فرقہ وارانہ نوعیت کے الزامات بھی عاید کر رہے ہیں۔

حوثیوں کے حامی کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر بھی علی صالح کے مقرب ٹی وی پر خطبہ حج نشرکیے جانے پر کڑی تنقید کی تھی۔

خیال رہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی شیعہ باغی اور منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح پچھلے دو سال سے یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت بیشترعلاقوں پر قابض ہیں۔ ان کا قبضہ چھڑانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک نے ’فیصلہ کن طوفان‘ کے عنوان سے ایک فوجی کارروائی شروع کررکھی ہے۔ اس فوجی آپریشن کے رد عمل میں حوثی سعودی عرب کے خلاف سخت ترین طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔