انڈونیشیا: داعش سے تعلق کے شبے میں سرکردہ جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

انڈونیشیا کی پولیس نے ملک کے وسطی جزیرہ نما سیلیبس سے ایک شدت پسند گروپ کے سربرہ کو حراست میں لیا ہے جس پر دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’داعش‘ سے وابستگی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جکارتا پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی انڈونیشیا کے انتہا پسند گروپ کے دوسرے سینیر رہ نما محمد بصری کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدت پسند کئی سال سے روپوش تھا۔ بوسو صوبے کی پولیس اور شدت جنگجو کے درمیان ماضی میں ہونے والی ایک لڑائی میں اس کا ایک ساتھی ہلاک ہو گیا تھا۔

پولیس ترجمان بوی رفلی عمر نے بتایا کہ سرکردہ جنگجو کو ملک کے جنوبی علاقے لبوسو کے ساحل سے گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ انڈونیشین پولیس کی طرف سے محمد بصری کی گرفتاری کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب دو ماہ قبل پولیس نے شدت پسند تنظیم کے سربراہ الشیخ ابو وردہ سانتوسو المعروف سانتوسو کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ سانتوسو کی ہلاکت بھی ادغال کے علاقے میں ہوئی تھی جہاں سے اس کے نائب کو گرفتار کیا گیا ہے۔

محمد بصری کو سانتوسو کا جانیشن قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ شدت پسند گروپ نے باضابطہ طور پر اسے اپنا لیڈر قرار دینے کا اعلان نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں