.

مکہ میں حجاج کی سیکیورٹی کے لیے 1200 کیمرے نصب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے اس سال حج کے موقع پر ضیوف الرحمان کی سہولت اور سلامتی کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں حجاج کرام کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لیے پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ 1200 خفیہ کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں بعض خفیہ کیمرے مستقل مقامات پر ہیں جبکہ موبائل کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔ ان کیمروں کی مدد سے مکہ مکرمہ میں حجاج کرام کی مختلف زاویوں میں نقل وحرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسجد حرام میں سیکیورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کے سربراہ میجر جنرل محمد بن وصل الاحمدی نے بتایا کہ ہم نے حج کے موقع پر جو جدید ٹکنالوجی استعمال کی ہے وہ بہت سے ملکوں کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مسجد حرام کی تمام گیلریوں، صحنوں اور مسجد کی طرف آنے والے راستوں پر مختلف زاویوں میں خفیہ مانیٹرنگ کیمرے لگائے گئے تاکہ حجاج کرام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کا عمل چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر جاری رہتا ہے۔ اس وقت حج کے قریبا تمام مناسک ادا کیے جا چکے ہیں۔ حجاج کرام طواف وداع کررہے ہیں اور ان کی اپنے ملکوں کو واپسی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ اس لیے سیکیورٹی ادارے بدستور الرٹ ہیں۔

مسجد حرام میں ایلیٹ فورس کے ترجمان کیپٹن سامح السلمی نے بتایا کہ ٹیلی ویژن کنٹرول روم کا زائرین کعبہ اور حجاج کرام کا ھجوم کنٹرول کرنے اور رش پر نظر رکھنے میں کلیدی کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ کیمروں کی مدد سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کہاں کہاں رش بڑھ گیا ہے اور حجاج کرام کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر متعلق حکام کو رش کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ کیپٹن سلمی کا کہنا تھا کہ حرم مکی کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر بھی خفیہ کیمرے نصب ہیں جن کی مدد سے حجاج کرام کی آمد ورفت کو منظم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔