.

’شام میں خون خرابے، داعش کے ظہور کا ایران ذمہ دار‘

سرکردہ ایرانی رہ نماء نے تہران کی پالیسیوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما نے تہران کی شام و عراق میں جاری پالیسیوں اور ان کے بھیانک نتائج کی ذمہ داری ایران پر عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دولت اسلامی ’داعش‘ کے وجود اور شام کو خون کے سمندر میں ڈبونے میں ایران کا ہاتھ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی رہ نما اور سرکردہ سماجی کارکن آیت اللہ علی خزعلی کے فرزند مہدی خزعلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم فیلق القدس اور اس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی شام میں لاکھوں لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ نہ ہوتے تو نہ داعش وجود میں آتی اور نہ ہی شام میں اتنا کشت وخون ہوتا۔

مہدی خزعلی کا کہنا ہے کہ سنہ 2011ء میں شام میں انقلاب کی تحریک کے ساتھ ہی جنرل قاسم سلیمانی اور ان کی نگرانی میں سرگرم فیلق القدس بشارالاسد کی آمرانہ حکومت کو بچانے لیے سرگرم ہوگئی تھی۔ ایرانی سماجی رہ نما نے شام اور بشارالاسد کے حوالے سے اختیار کرہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اگرایرانی حکومت شام میں کشت خون کے بجائے بشارالاسد کی آمریت کے خلاف کھڑی ہوتی اور وہاں آمریت کے بجائے جمہوریت کا ساتھ دیتی تو اس کےنتیجے میں تہران کے دمشق کے ساتھ زیادہ اچھے تعلقات قائم رہتے۔ شامی عوام میں بھی ایران کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ ایران کے شام میں مفادات بھی متاثر نہ ہوتے۔ ہم تین دھائیوں تک بشارالاسد کی حکومت کو مفت تیل مہیا کرتے رہے۔ اگر اتنا تیل مفت کسی اور کو دیا ہوتا تو وہ بھی ہمارا دوست ہوتا۔

مہدی خز علی نے شام کی موجودہ جنگ کو عراق۔ ایران جنگ سے مشابہت دی۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سال تک جاری رہنے والی جنگ نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ شام کی جنگ نے پانچ سال میں پہنچایا ہے۔

ایرانی بے وقوفی نے مشکل میں ڈال دیا

ایرانی سماجی و مذہبی رہنما نے اپنی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص شام میں مداخلت کے معاملے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تہران کا شام کی جنگ میں کود پڑنا بہت بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے فارسی کی ایک ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضرب المثل ایران پر صادق آتی ہے کہ’اگر کوئی پاگل کوئیں میں چٹان گرا دے تو عقل مند اسے نکال نہیں سکتا‘‘۔ ایران نے بھی شام میں مداخلت کرکے بہت بڑی بے وقوفی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب ایران سخت مشکل میں ہے اور شام کی جنگ سے باہر نکلنے کی کوشش کے باوجود نکل نہیں پا رہا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں سنہ2011ء کو صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک کے آغاز ہی پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دمشق سرکار کو بچانے کا اعلان کیا تھا۔ شام سے پہلے جب دوسرے عرب ملکوں میں بغاوت کی تحریکوں نے جنم لیا تو خامنہ ای نے انہیں اسلامی بیداری کی تحریکیں قرار دیا جب یہی معاملہ شام میں پیش آیا تو تہران کی آنکھیں بدل گئیں اور اسے حکومت کے خلاف گہری سازش قراردیا گیا۔

داعش اور جنرل سلیمانی

مہدی خز علی کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ وجدل میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم فیلق القدس اور اس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ شام کو خون کے سمندر میں ڈبونے اور داعش جیسے گروپوں کو وجود میں لانے میں جنرل قاسم سلیمانی کی پالیسیوں کا گہرا عمل دخل ہے۔ اگر جنرل سلیمانی نہ ہوتے تو وداعش کا بھی کوئی وجود نہ ہوتا۔ ہم نے اپنا ایک نیا مشترکہ دشمن خود بنایا اور یہ جنرل سلیمانی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

خیال رہے کہ مہدی خز علی سنہ 1965ء کو ایران میں پیدا ہوئے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہیں جب کہ ان کے والد آیت اللہ ابو القاسم خزعلی ایران کی خبرگان کونسل کے رکن رہ چکے ہیں۔ آیت اللہ خزعلی نے ایران کے موجودہ ولایت فقیہ کے دستور کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ 20 سال تک دستوری کونسل کے بھی رکن رہے۔