.

دہشت گردی کی معاونت میں اوباما پرایران کو ڈھیل دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما ایک بار پھر کانگریس کی طرف سے سخت الزامات اور تنقید کی زد میں ہیں۔ ارکان کانگریس نے صدر پر تازہ الزام یہ عاید کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور مدد کرنے پرایران کے حوالے سے سخت موقف اپنانے کے بجائے تہران کو مسلسل ڈھیل دینے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ایران نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز امریکی سینٹ کے زیراہتمام تعلقات عامہ کمیٹی نے ایک نئے بل پر رائے شماری کی جس میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کو رقوم فراہم کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ رائے شماری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دوسری طرف سے کانگریس کے سرکردہ اراکین صدر اوباما پر ایران کو ڈھیل دینے اور دہشت گردوں کی مدد کے لیےایران کو فنڈز کے حصول کا موقع فراہم کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

خبر رساں دارے’اے پی‘ کے مطابق تعلقات عامہ کمیٹی کے 21 ارکان نے ایران کو رقوم کی منتقلی کے بل پر صدر کا اختیار ختم کرنے کے حق میں رائے دی جب کہ 16 ارکان نے اس بل کی مخالفت کی۔

کمیٹی کے چیئرمین اڈ رویز نے الزام عاید کیا کہ صدر باراک اوباما اور ان کی حکومت ایران کو نقد رقوم فراہم کرتی رہی ہے۔ اس رقم کا پیچھا کرنا اور اس کے استعمال پر نظر رکھنے کا کوئی ذریعہ بھی موجود نہیں۔ اس طرح صدر نے ایران کو دہشت گردی کی حمایت اور مدد کے لیے مالی معاونت میں ڈھیل دی ہے۔

خیال رہے کہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس نے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم ایران کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری قانونی تنازع کے حل کے لیے فراہم کی تھی۔ چند ماہ قبل امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا تھا کہ رواں سال جنوری میں ایران کو قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں 400 ملین ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ یہ رقم لکڑی کے صندوقوں میں ڈال کر تہران پہنچائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اسلحہ کے معاہدے توڑنے اور منافع کی مد میں ایران کو 22 جنوری سے 5 فروری 2016ء کے درمیان ایک ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کیے گئے۔

وائس آف امریکا ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کی تعلقات عامہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران دہشت گردی کی حمایت اور مدد ترک نہیں کرتا کوئی امریکی حکومت کانگریس کی اجازت کے بغیر اپنے طور پرایران کو رقوم فراہم نہیں کرسکے گی۔

امریکی کانگریس کے رکن اور ایران کے جوہری معاہدے کے مخالف الیوٹ انگل کا کہنا ہے کہ ایران کو ڈھیل دینا تہران کی جوہری صلاحیت میں مدد اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں اس کی معاونت کے مترادف ہے۔