.

یو این سیکریٹری جنرل نے نیتن یاہو کے بیان کی مذمت کردی

اسرائیلی وزیراعظم کا نسلی تطہیر سے متعلق بیان بالکل ناقابل قبول اور اشتعال انگیز ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک حالیہ بیان پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔نیتن یاہو نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیر کردہ یہودی بستیوں کی مخالفت کو نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اپنے تیئں فلسطینیوں پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایک ایسی ریاست کے خواہاں ہیں جس میں کوئی یہودی نہ ہو اور ان کے اس موقف کو ''نسلی تطہیر'' قرار دیا جاسکتا ہے۔

بین کے مون نے سلامتی کونسل کے اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے بارے میں ایک اجلاس میں کہا ہے کہ ''مجھے اسرائیلی وزیراعظم کے ایک حالیہ بیان پر پریشانی لاحق ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ جو لوگ یہودی بستیوں کی توسیع کے مخالف ہیں،وہ نسلی تطہیر کے حامی ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''یہ بیان بالکل ناقابل قبول اور اشتعال انگیز ہے''۔

بین کی مون نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کی سرزمین پر مکانوں کی تعمیر کی پالیسی بالکل غیر قانونی ہے۔انھوں نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا: '' مجھے یہ واضح کرنے دیجیے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں۔قبضے اور جبر واستبداد کا خاتمہ ہونا چاہیے''۔

انھوں نے اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ تین برس کے دوران اس سال اپریل کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد میں فلسطینی علاقوں میں مکان تعمیر کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ان اطلاعات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے اپنی وزارت کے ملازمین اور فوجی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ایلچی نیکولے میلادینوف کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

میلادینوف نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بتایا تھا کہ اسرائیل نے گروپ چار کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔امریکا ،روس ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر مشتمل گروپ چار نے اسرائیل سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہود آبادکاروں کے لیے مکانات کی تعمیر کے منصوبے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔