لیبیا: تیل کی بندرگاہوں پر متحارب فورسز میں دوبارہ لڑائی چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں تیل کی بندرگاہوں پر کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ قومی اتحاد کی حکومت کے تحت فورسز اور مشرقی علاقے میں اس کی متحارب انتظامیہ کے تحت ملیشیا (لیبیا نیشنل آرمی) کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی اور دوسرے شہروں پر قابض متنازعہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر کمان فورس کے ترجمان محمد ابسط نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''پیٹرولیم تنصیبات کے گارڈ (پی ایف جی) نے اتوار کی صبح راس لانوف کا کنٹرول واپس لینے کے لیے حملہ کیا ہے اور ہماری فورسز ان سے لڑ رہی ہیں''۔

خلیفہ حفتر کے زیرکمان فورسز نے گذشتہ ہفتے لیبیا کی تیل کی چار بندرگاہوں پر لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔تیل تنصیبات کے محافظ گارڈ طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کے وفادار ہیں۔انھوں نے دو بندرگاہوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے آج جوابی حملہ کیا ہے۔

پی ایف جی کے ترجمان علی الحاسی نے بتایا ہے کہ ''ہم نے السدر اور راس لانوف پر حملہ کیا ہے اور حفتر کی فورسز جنگی طیاروں کے ذریعے ہم پر جوابی حملے کرنے کی کوشش کررہی ہیں''۔

تیل کی برآمدات کے لیے استعمال ہونے والی چاروں بندرگاہوں سے بے دخلی طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔اس حکومت کی آمدن کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہی ہے اور وہ طرابلس میں مارچ میں کنٹرول کے بعد سے پورے ملک میں اپنی عمل داری کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ خلیفہ حفتر اور لیبیا کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی دوسری عسکری اور سیاسی قوتوں نے طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس کی مشرقی لیبیا میں عمل داری بھی قائم نہیں ہونے دی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک نے خلیفہ حفتر کی فورسز کے تیل کی بندرگاہوں پر قبضے کی مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں