.

داعش نے امریکا میں چاقو حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے ترجمان آن لائن اخبار’اعماق‘ نے اتوار کے روز جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ریاست مینیسوٹا کے ایک تجارتی مرکز میں چاقو کے حملے میں آٹھ افراد داعش کے جنگجوؤں نے زخمی کیا ہے۔

امریکی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ ریاست مینیسوٹا میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک تجارتی مرکز میں دستی ہتھیاروں سے لیس ایک مشتبہ شخص کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب اس نے چاقو کے پے در پے وار کرکے آٹھ افراد کو زخمی کردیا تھا۔

سینٹ کلاؤڈ شہر کے پولیس چیف بلیر انڈرسن نے کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے لوگوں پر چاقو سے حملے سے قبل اللہ کا نام لیا۔ ہم یہ سمجھے کہ کوئی شخص کسی دوسرے پرحملے سے قبل اسے مسلمان ہونے کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کو دہشت گردانہ کارروائی نہیں قرار دے سکتے۔

ولیم بلیر انڈرسن نے چاقو حملے کی مزید تفصیلات میں بتایا کہ مینھٹن کے شمال مغرب میں 97 کلو میٹر دور مینا پولیس کے سینٹ کلاؤڈ شہر میں واقع کروس روڈز تجارتی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے ایک مشتبہ شخص نے وہاں پر خریداری میں مصروف فراد پر چاقو سے حملے کئے۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کرکے حملہ آور کو ہلاک کردیا تھا تاہم وہ اس واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں کہ آیا یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی یا نہیں۔ دوسری جانب داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔