.

عبرانی نہ سمجھنے پربے گناہوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا!

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا ایک بھیانک پہلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صہیونی ریاست میں زندہ رہنے کے لیے جہاں اسرائیلیوں کے سامنے ہرحال سرتسلیم خم کرنا ضروری ہے وہیں لازمی ہے کہ آپ عبرانی زبان جانتے ہوں ورنہ کسی بھی پولیس اور فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ آپ کی جان لے سکتی ہے۔

اکیسویں صدی میں انسانیت کےقتل عام کے بے شمار اسباب میں ایک اہم سبب زبانوں سے ناواقفیت رہی ہے مگراس کے بھیانک مظاہر اسرائیل میں سب سے زیادہ دیکھے گئے ہیں۔

اس کی تازہ مثال حال ہی میں بیت المقدس میں ایک اردنی نوجواں کا صہیونی پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل ہے۔ اسے عبرانی نہ سمجھنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

27 سالہ سعید العمر کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ عبرانی نہیں جانتا تھا۔ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے اردن سے نکلا مگر عبرانی زبان سے عدم واقفیت نے اس کی جان لے لی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے صہیونی فوج کی جانب سے زبان سے آگاہی نہ رکھنے پرموت کے گھاٹ اتارے جانے کی بربریت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اردنی شہری سعید العمرو ہی اس کی پہلی مثال نہیں بلکہ کتنے ہی فلسطینی اور دوسرے ملکوں کے شہری عبرانی نہ سمجھنے کی پاداش میں شہید کردیے گئے۔ دسیوں کو مارا پیٹا گیا جن میں ایک امریکی بھی شامل ہے۔

صہیونی فوج کی طرف سے اکثر فلسطینی شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شہید مزاحمت کار تھا یا مزاحمت کارہ تھی جو چاقو کے ذریعے فوجیوں پر حملے کی کوشش میں تھے حالانکہ صہیونی فوج کی ان من گھڑت کہانیوں کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔ فلسطینیوں کو محض عبرانی نہ سمجھنے پر گولیاں مار دی جاتی ہیں، انہیں گاڑیوں تلے کچلا جاتا ہے یا انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

اردنی شہری سعید العمرو کے معاملے میں بھی صہیونی فوجیوں نے اس کے مزاحمت کار ہونے کا افسانہ تراشا مگر یہ حقیقت اس وقت کھل کرسامنے آئی کہ شہید تو بالکل نہتا تھا وہ اپنے چند دوسرے احباب کے ساتھ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے آیا تھا۔ اس کا اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی اس کے قبضے اور سامان سے ایسی کوئی مہلک چیز ملی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اردنی نوجوان کی موت کی ایک عینی شاہدہ اور قانون دان کا بیان نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے باب العامود کے مقام پر کھڑے سعید کو عبرانی میں کچھ کہا جسے وہ نہ سمجھ سکا اور وہاں سے آگے چل پڑا۔ اس پر صہیونی فوجیوں نے اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر ڈالی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

عبرانی نہ سمجھنے سے ہونی والی شہادتیں

فلسطین اور اردن میں سعید العمرو کے اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں قتل کو مجرمانہ کارروائی اور ریاستی دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی شخص کو عبرانی نہ سمجھنے پر شہید کیا گیا۔

رواں سال اپریل میں رام اللہ اور بیت المقدس کے درمیان قلندیا چیک پوسٹ پر دو فلسطینی بہن بھائیوں کو اسرائیلی فوجیوں نے عبرانی میں روکا، دونوں عبرانی نہیں جانتے تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ فلسطینی بچے عبرانی نہیں جانتے انہیں اپنی زبان میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔ جب وہ نہ سمجھ سکے تو ایک فوجی نے 23 سالہ لڑکی مرام ابو اسماعیل کو گولیاں مار دیں۔ جب وہ گولیاں کھا کر زمین پر گری تو اس کا 16 سالہ بھائی ابراہیم بہن کو بچانے اس کی طر لپکا تو صہیونی فوجیوں نے اس پر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ابراہیم کے جسم میں 20 گولیاں ماری گئی تھیں۔

حاملہ مرام اپنی چھ سالہ بیٹی سارہ اور چار سالہ ریماس کے ہمراہ پہلی بار بیت المقدس کی زیارت کے لیے رام اللہ سے اپنے بھائی کے ہمراہ جا رہی تھی کہ اسے عبرانی نہ سمجھنے کی پاداش میں شہید کردیا گیا۔ بعد ازاں یہ ڈرامہ رچایا گیا کہ دونوں بہن بھائی اسرائیلی فوجیوں پر چاقو سے حملے کے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

امریکی سیاح پر حملہ

عبرانی نہ سمجھنے پرصرف فلسطینی ہی انتہا پسند یہودیوں اور اسرائیلی دہشت گرد فوج کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں بلکہ ہر وہ غیرملکی حتیٰ کہ امریکی بھی عبرانی سے واقفیت نہ رکھنے پربعض اوقات پٹ جاتے ہیں۔

سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں قائم نیوز ویب پورٹل ’’عرب 48‘‘ کی رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ پیشتر تل ابیب میں شاہراہ الیرکون پراسرائیلی پولیس نے ایک امریکی سیاح کی گاڑی روکی اور اس سے عبرانی میں بات کی کوشش کی مگر وہ چونکہ عبرانی نہیں جانتا تھا۔ اس پر یہودی آباد کار نے امریکی سیاح کے پیٹ میں چاقو گھونپ دیا جس کے نتیجے میں امریکی شہری بھی زخمی ہوگیا۔

سنہ 2015ء میں سویڈش وزیر خارجہ مارگوٹ وولسٹرم نے اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے فلسطینیوں کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ اٹھایا تو صہیونی ریاست اس پر چراغ پا ہو گئی تھی۔