.

امریکا میں ایک اور سیاہ فام سفید فام پولیس کے ہاتھوں قتل

پولیس کارروائیوں میں سیاہ فاموں کی ہلاکتوں کی تعداد 161 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے مطابق پولیس نے ایک اور سیاہ فام امریکی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کی تازہ خبر ایک فوٹیج میں سامنےآئی ہے جس میں ایک پولیس اہلکار کو سیاہ فام پر گولیاں چلاتے دکھایا گیا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران پولیس کے ہاتھوں امریکا میں مارے جانے والے سیاہ فاموں کی تعداد 161 ہو چکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکام کی طرف سے جاری کردہ فوٹیج کے مطابق پولیس نے 40 سالہ نہتے سیاہ فام ٹیرانسی کراچر کو گذشتہ جمعہ کے روز گولیاں ماریں۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاہ فام گولیاں لگنے اور زخمی ہونے کے بعد دیر تک اپنی کار کے قریب بے یارود مدد گار پڑا رہا۔ اس کے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ جانے سے اس کی موت واقع ہوئی۔

یہ واقعہ جمعہ کے روز امریکی ریاست اوکلاھاما کے تلسا شہر میں پی آیا۔ شہر کے پولیس چیف چاک گورڈون نے واقع کو حد درجہ خوفناک قرار دیا ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گورڈون نے کہا کہ میں نے پہلی مرتبہ سیاہ فام امریکی کی ہلاکت کی فوٹیج اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دیکھی۔ ہم اس واقع سے چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتے۔ سیاہ فام کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ہرممکن قانونی کارروائی کی جائے گی۔

فوٹیج کے مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار ایک مضبوط اور بھاری جسامت والے سیاہ فام شخص کو ہاتھ اٹھانے کا حکم دے رہے ہیں۔ وہ پیچھے ہٹتا ہے اور اپنی کار کے ساتھ ٹیک لگا کر ہاتھ اٹھا کر یہ ظاہر کرہا ہے کہ وہ نہتا ہے۔ اس دوران ایک خاتون کی بلند آواز سنائی دیتی ہے جو کہہ رہی ہے ہ ’گولیاں چلاؤ‘‘۔ اس کے ساتھ ہی گولیاں سیاہ فام کے جسم میں پیوست ہوجاتی ہیں اور وہ زمین پر گرپڑتا ہے۔

اس واقع میں ملوث ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ سیاہ فام شخص اپنی کار کے دروازے کھلے چھوڑ کر اسے سڑک کے درمیان چلا رہا تھا۔ اس نے پولیس کے احکامات پرعمل کرنے سے انکار کردیا جس پر گولی چلانا پڑی۔ مگر ویڈیو فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ کار خراب ہے۔

امریکی پراسیکیوٹر نے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ فائرنگ میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے حکومت سے قتل کے واقعے کی فوری اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔