.

حوثی باغی مہاجر بچوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کررہے ہیں: منصور ہادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغی صومالیہ سے تعلق رکھنے والے مہاجر بچوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ہارن آف افریقا کے راستے مہاجرین کی یمن میں جوق درجوق آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پہلے ہی لڑائی کی وجہ سے تیس لاکھ افراد اندرون ملک در بدر ہیں اور اس سے مسائل دو چند ہوگئے ہیں۔

ہارن آف افریقا کے خطے میں جیبوتی ،ایریٹریا ،ایتھوپیا اور صومالیہ شامل ہیں۔صدر منصور ہادی نے جنرل اسمبلی کو بتایا ہے کہ ''اس وقت ان ممالک سے تعلق رکھنے والے بارہ لاکھ مہاجرین یا غیر قانونی تارکین وطن یمن میں پناہ گزین ہیں اور ہر ماہ قریباً چودہ ہزار مہاجرین یمن پہنچ رہے ہیں۔ان میں بارہ ہزار کا ایتھوپیا اور دو ہزار کا صومالیہ سے تعلق ہوتا ہے''۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سال پہلی ششماہی کے دوران یمن میں ساٹھ ہزار مہاجرین یا غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ہوچکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ان مہاجرین کے ساتھ یمنیوں ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے،وہ ہمارے اسکولوں اور جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ملازمتوں میں بھی ان کی یمنیوں سے مسابقت ہوتی ہے''۔

درایں اثناء یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے کہا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بڑھ چکی ہیں اور وہاں انسانی صورت حال بہت ہی ابتر ہوچکی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ یمن کی کل ڈھائی کروڑ آبادی میں سے دو کروڑ دس لاکھ کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔وہ یمنی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر یمن کے بارے میں 21 ستمبر کو ایک اجلاس کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔اس سلسلے میں انھوں نے کویتی وزیر خارجہ صباح خالد الحمد الصباح سے بھی ملاقات کی ہے۔