.

روس اور شام کے لڑاکا جیٹ نے امدادی قافلے پر بمباری نہیں کی: ماسکو

حلب کے نواح میں فضائی حملے کے بعد اقوام متحدہ کے شام کے لیے امدادی قافلے معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے واضح کیا ہے کہ روسی فضائیہ یا شام کے لڑاکا جیٹ نے حلب میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کو بمباری میں نشانہ نہیں بنایا ہے۔ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی قافلے پر حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے ماسکو میں منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ '' روس یا شام کے لڑاکا طیاروں نے حلب کے جنوب مغرب میں واقع نواحی علاقے میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا ہے''۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے شام میں اپنے امدادی ٹرکوں پر فضائی حملے کے بعد تمام امدادی قافلے معطل کردیے ہیں۔ سوموار کی شب شمالی شہر حلب کے نزدیک ایک فضائی حملے میں اقوام متحدہ کے بیس ٹرکوں پر مشتمل قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حملے میں ہلاک ہونے والے تمام بیس افراد ٹرکوں کے ڈرائیور تھے یا انجمن ہلال احمر کے رضا کار تھے۔اقوام متحدہ نے اس امدادی قافلے پر حملے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر قافلے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ ایک جنگی جرم ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے سربراہ اسٹیفن او برائن نے امدادی قافلے پر حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہا میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ''اگر اس سنگ دلانہ حملے کے بارے میں یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ انسانی امدادی قافلے اور اس کو لے جانے والوں کو جان بوجھ کر ہدف بنایا گیا ہے کہ تو یہ ایک جنگی جرم ہوگا''۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملہ یا تو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کرسکتی ہے یا پھر ان کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے کیا ہے اور روس کو اس کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے لیکن روس نے اب اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے ایک کارکن اور حملے کے عینی شاہد کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری سے آٹھ گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ان کے علاوہ انجمن ہلال احمر کا ایک علاقائی ڈپو بھی تباہ ہوگیا ہے اور یہ ٹرک اس ڈپو پر ہی کھڑے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکا حلب کے نزدیک ایک انسانی امدادی قافلے پر بمباری سے متعلق رپورٹس پر سخت مشوش ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جنگ بندی کی ننگی خلاف ورزیوں کے پیش نظر ہم مستقبل میں امریکا کے ساتھ تعاون کے امکانات کا از سرِ نو جائزہ لیں گے''۔

گذشتہ ہفتے امریکا کے لڑاکا طیاروں نے مشرقی شہر دیرالزور میں شامی فوج پر غلطی سے بمباری کردی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم نوّے فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔امریکا نے کہا تھا کہ یہ حملہ حادثاتی طور پر ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اس کو شامی فوج کے جانی نقصان پر معافی مانگنا پڑی تھی۔

اب امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ غیر فوجی امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے پر روس سے بالکل اسی طرح کی معافی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جان کربی کا کہنا ہے کہ اس قافلے کی منزل کا شامی رجیم اور رشین فیڈریشن کو پتا تھا۔اس کے باوجود شامی عوام کو امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کے دوران ان کارکنان کو ہلاک کردیا گیا ہے۔