.

بدبخت باپ نے معصوم بیٹی قتل کرکے نعش دریامیں بہا دی

حاسد باپ سرطان کی مریضہ بیٹی کو ملنے والی محبت برداشت نہ کرسکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وحشیانہ قتل جیسے جرائم کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ قاتل اور مقتول کے باہمی رشتے سے اس جرم کی صداقت پریقین نہیں آتا مگر انسان جب درندگی اور وحشت پراترآئے تو تمام قریبی رشتے اورانسانی قدریں اس کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔

امریکا میں ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ کچھ عرصہ پہلے رونما ہوا۔ درد دل رکھنے والے ہرانسان کو اس واقعے نے رلا دیا ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ ریان لورانس نے رواں سال فروری میں اپنی دو سال سے کم عمرکی بچی ماڈوکس لورانس کو بیس بال کے بیٹ سے تشدد کرکے قتل کیا۔ پھر اس کی نعش کو آگ لگا کر جلایا اور جلی ہوئی نعش کو نیویارک میں بہنے والے دریائے ’سیراکیوز‘ کی موجوں کی نذر کردیا۔

امریکی پراسیکیوٹر اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مُلزم والد کو معصوم اور بے گناہ بیٹی کے قتل کے جرم میں گرفتارکیا گیا ہے۔ اس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے۔ اس لیے اگلے ماہ اسے عدالت کی طرف سے بیٹی کےوحشیانہ قتل کے جرم میں کم سے کم 25 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ تاہم قاتل کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کا ذہنی توازن بھی درست نہیں ہے اور وہ نفسیاتی مریض ہے۔

میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ریان لورانس نامی شخص نے اپنی کم عمر بیٹی کو ملنے والی عزت اور لوگوں کی شفقت پر حسد کے باعث اسے قتل کیا۔ اکیس ماہ کی ماڈوکس لورانس کی آنکھ میں کینسر تھا۔ وہ کئی ماہ تک اسپتال میں زیرعلاج رہی۔ مسلسل علاج سے بیٹی شفایاب ہوگئی۔ جہاں جہاں تک بچی اور اس کے والدین کی واقفیت تھی لوگوں نے سرطان کی مریضہ کو بہت زیادہ پیار دیا مگر باپ کو بیٹی کو ملنے والی یہ عزت برداشت نہ ہوسکی اور اس نے حسد کی آگ میں جلتے ہوئے بیٹی کی جان لے لی۔

مقتول بیٹی کی والدہ اور قاتل کی بیوی 21 سالہ مورگان ملازمت کرتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ رواں سال فروری میں اس کی بیٹی اور باپ دونوں لاپتا ہوگئے۔ اس نے پولیس کو اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور بیٹی اور شوہر دونوں کی بہ خیریت گھر واپسی کے لیے کوششیں کیں۔ پولیس تحقیقات کر رہی تھی کہ اس دوران ریان لورانس سامنے آگیا۔ پولیس نے اسے بھی شامل تفتیش کیا تو بدبخت والد نے سب کچھ بتا دیا۔

ریان لورانس کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ لورانس بیٹی کو قتل کرسکتا ہے۔ وہ تو اس پر جان چھڑکتا تھا۔ جب تک وہ کینسر کے باعث اسپتال میں زیرعلاج رہی وہ رات دن بیٹی کے ساتھ رہا۔ اس کے ساتھ کھیلتا اور اس کا دل بہلاتا۔ مگر بیٹی کو ملنے والی عزت اور پیار نے باپ کو پاگل کردیا۔ حسد کی آگ نے باپ کی شفقت کو درندگی میں بدل دیا اور اس نے عزیز از جان بیٹی کوموت کی نیند سلا دیا۔