.

"عالمی برادری کے ساڑھے تین لاکھ مہاجرین کو پناہ دینے کے وعدے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں امریکا کے نمائندے کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے منعقد کئے جانے والے ایک سمٹ میں درجنوں ممالک نے تین لاکھ 60 ہزار مہاجرین کو پناہ دینے یا قانونی طور پر ملک میں داخلے کی اجازت دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تعداد پچھلے سال کی تعداد سے تقریبا دوگنا ہے۔

امریکی سفیر سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ اتنے اضافے کے باوجود مہاجرین کی یہ تعداد اقوام متحدہ کی مہاجرین کے لئے قائم ذیلی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کا صرف چھوٹا سا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ بحالی مہاجرین کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق تقریبا 12 لاکھ مہاجرین کو رہائش کی جگہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

براک اوباما کی جانب سے منعقدہ اس سمٹ میں صرف وہ ممالک شمولیت اختیار کرسکے تھے جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اوباما نے سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہ مہاجرین کا یہ بحران ہمارے بین الاقوامی نظام کا ایک امتحان ہے جہاں تمام ممالک کو ذمہ داریاں اجتماعی طور پر نبھانا ہوں گی۔ ابھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد صرف 10 ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہے۔

اوباما کا کہنا تھا کہ "ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مہاجرین کا مسئلہ معاشرے کے بڑے مسائل کی نشاندہی ہے، چاہے وہ جنگ ہو، نسلی کشیدگی یا پھر انتقامی کارروائی۔"

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اس سمٹ میں شرکت کرنے والے 50 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس اسال اقوام متحدہ کی اپیلوں اور انسانی فلاح کے لئے کام کرنے والے گروپس کو 4.5 ارب ڈالر کی امداد دی ہے۔

امریکی نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے اس موقع پر بتایا کہ "ماضی میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ممالک کانفرنسز میں شرکت کر کے وعدے کر لیتے ہیں اور پھر ان وعدوں کو پورا نہیں کرپاتے ہیں۔ ہمیں اس موقع پر کچھ بہتر اقدامات کرنا ہوں گے۔"