"جاسٹا" سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے گا : امریکی ذمہ داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی ذمہ داران کی جانب سے صدر باراک اوباما اور ارکان کانگریس کے نام ایک کھلا خط بھیجا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ "جاسٹا" کا قانون سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچائے گا اور اس سے امریکی مفادات کو بھی ضرر پہنچے گا۔ خط میں واضح طور پر باور کرایا گیا ہے کہ "11 ستمبر کے واقعات میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں"۔

خط میں دہشت گردی کے سرپرستوں کے خلاف انصاف سے متعلق قانون (جاسٹا) پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو صدر اوباما کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا منتظر ہے اور اس کے بعد پھر سے لوٹ کر کانگریس میں آئے گا۔ امریکی ذمہ داران کے مطابق اس قانون کے امریکی قومی مفادات پر پریشان کن اثرات مرتب ہوں گے اور غیر مقصود نتائج مشرق وسطی اور یورپ میں امریکی تعلقات اور دنیا بھر میں اس کے مقام پر اثر انداز ہوں گے۔

اگر یہ قانون سرکاری طور پر نافذ ہو گیا تو یہ ُاس سیاسی مامونیت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا جس پر امریکا اور تمام خود مختار ممالک صدیوں سے اعتماد کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیرون ملک مصروف عمل امریکی فوجی ، سفارت کار اور امریکی حکومت کے تمام اہل کار دیگر ممالک میں عدالتی مقدمات کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔

یقینا اس قانون کے نتیجے میں امریکا کے قومی مفادات ، دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ ہونے کی امریکی صلاحیت اور دنیا بھر میں امریکا کا قائدانہ کردار سب شدید خطرے میں پڑجائیں گے۔

گیارہ ستمبر کا شکار ہونے والے افراد سے ہمدردی رکھتے ہیں تاہم یہ قانون مذکورہ افراد کے لیے ہر گز مددگار ثابت نہیں ہوگا۔ اس قانون سے پہنچنے والا نقصان بہت بڑا اور طویل المدت ہوگا۔

اس کے علاوہ یہ قانون ہمارے ایک اہم ترین حلیف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچائے گا اور پورے مشرق وسطی کے ساتھ ہمارے تعلق کو تباہ کر دے گا۔ سعودی عرب دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے عالمی اور علاقائی سطح پر واشنگٹن کے اہم ترین اور با اعتماد شراکت داروں میں سے ہے۔

یقینا سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک امریکا کے لیے بنیادی حیثیت کے حامل اقتصادی شراکت دار شمار ہوتے ہیں۔ اس شراکت داری میں مشرق وسطی اور امریکا میں سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ یہ قانون مملکت سعودی عرب اور پورے خلیج کو یہ پیغام دے گا کہ امریکا تاریخ میں گزرے تعلقات کو اب کوئی گراں قدر حیثیت نہیں دیتا ہے۔

اگر سعودیوں کو یہ نظر آیا کہ امریکا ان کے ساتھ اتحاد کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دے رہا ہے تو وہ اس کا براہ راست یہ نتیجہ نکالیں گے کہ ریال کا ڈالر کے ساتھ ربط اب کسی تزویراتی فائدے کا حامل نہیں رہا اور اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی کرنسی کی منڈیوں میں ڈالر کی قدر کم ہوجائے گی۔

دہشت گردی کے سرپرستوں کے خلاف انصاف سے متعلق قانون کا غیر موزوں صورت میں نقصان حتمی طور پر امریکا کے مشرق وسطی کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی یورپی شریکوں نے بھی آخری چند ہفتوں میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس نئے قانون سے یورپی ممالک کو پہلی مرتبہ امریکی عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ بھی چالیس برسوں سے حاصل قانونی مامونیت کے بغیر۔

ہم صدر اور کانگریس پر بھرپور زور دیتے ہیں کہ وہ امریکا کے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں شدید کمزوری کے ممکنہ جیوپولیٹیکل اور اقتصادی نتائج کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔ اگر سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات کمزور ہوگئے تو امریکا کو مستقبل میں کئی عشروں تک اس کے نتائج کو بھگتنا ہوں گے۔

امریکی صدر اور کانگریس کے نام یہ کھلا خط جن اہل کاروں کی جانب بھیجا گیا ان میں سابق وزیر دفاع ولیم ایس کوئان، سابق اٹارنی جنرل مائکل بی موکاسی ، سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں قومی سلامتی کے مشیر اسٹیفن ہیڈلے ، امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیکل مورل ، سکیورٹی ، انفرا اسٹرکچر اور انسداد دہشت گردی کے لیے امریکا کے سابق قومی کوآرڈی نیٹر رچرڈ کلارک ، داخلہ سکیورٹی اداروں کے سابق وزیر رینڈ پیئرز ، وزارت خاجہ کے سابق انڈرسکریٹری برائے سیاسی امور تھامس آر بیکرنگ ، وزارت دفاع کے سابق انڈر سکریٹری برائے سیاست فرینک وزنر اور اسرائیل اور مصر کے لیے سابق امریکی سفیر ڈینیئل کورٹزر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں