مراکش : داعش سے تعلق کے الزام میں چار خطرناک جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں پولیس نے دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) سے تعلق کے الزام میں چار خطرناک مشتبہ جنگجوؤں کا گرفتار کر لیا ہے۔مراکشی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش کررہے تھے۔

مراکش کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ تفتیش کاروں نے بدھ کے روز شمالی شہر مكناس میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا تھا۔وہ مراکش میں دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

بیان کے مطابق اس مشتبہ شخص نے دھماکا خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول سے اڑانے کا کافی تجربہ حاصل کررکھا تھا اور وہ ایک بم کی تیاری کے لیے درکار ضروری مواد حاصل کرنے ہی والا تھا۔

گذشتہ ہفتے مراکش کے شمالی علاقے طنجہ سے تین مشتبہ انتہا پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔وزارت داخلہ کے مطابق وہ دہشت گردی کی انتہائی سنگین کارروائیوں کی تیاری کررہے تھے۔

اس سیل کے سربراہ سے داعش کے ایک مراکشی رکن نے رابطہ کیا تھا اور وہ اس جنگجو گروپ میں شامل ہونے کے لیے شام یا عراق جانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

مراکش کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 2002ء کے بعد ڈیڑھ سو سے زیادہ دہشت گردی کے سیلوں کو بے نقاب کیا ہے۔ان میں دسیوں کو گذشتہ تین سال کے دوران عراق اور شام میں جنگجوؤں سے تعلق کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

امریکا میں قائم صوفان نامی ایک گروپ نے گذشتہ سال دسمبر میں ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گذشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران مراکش سے کم سے کم بارہ سو افراد عراق اور شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے کے لیے گئے تھے۔ مراکشی وزارت داخلہ کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران ایک ہزار تین سو پچاس مراکشی داعش میں شامل ہوئے تھے اور ان میں قریباً اڑھائی سو لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں