.

آسٹریا میں ایرانی جاسوس کیا کچھ کرتے ہیں؟ جانئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت کہ جب ایرانی اپنے شہریوں کو مغربی ملکوں کے مفاد کی خاطر جاسوسی کے الزام میں دھڑا دھڑ گرفتار کئے جا رہا ہے تو دوسری جانب تہران کے جاسوس یورپ بالخصوص آسٹریا میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔ ایرانی جاسوس ان ملکوں میں حکومت مخالفین کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے جیسا کہ انہوں نے اسی کی دہائی میں ایرانی ایوزیشن جماعت ڈیموکریٹک کردستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبدالرحمن قاسملو کو ہلاک کر کے کیا۔

آسٹریلین اخبار 'دی برسہ' اپنی حالیہ اشاعت میں شامل ایک خصوصی پورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت آسٹریا میں ایران کے کم سے کم ایک سو جاسوس سرگرم ہیں۔ ان میں ایرانی شہریوں کے علاوہ دیگر ملکوں کے افراد بھی شامل ہیں جنہیں ایران نے جاسوسی کے لئے بھرتی کر رکھا ہے۔ ان جاسوسوں کا کام تہران حکومت کے مخالفین پر دباؤ ڈالنا اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کرنا ہے۔ نیز ایران کے خلاف عالمی پابندیوں میں نرمی کی خاطر رائے عامہ کی ہمواری اور منی لانڈرنگ جیسے امور بھی انہیں جاسوسوں کے فرائض میں شامل ہیں۔

امریکی کانگریس نے آسٹریا میں سرگرم ایرانی جاسوسوں کی تعداد کا اندازہ ایک سو لگایا ہے جو یورپ کے اس جمہوری ملک کی شہری آزادیوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے ایجنڈا پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ آسٹریا یورپی ملکوں میں مقیم ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کے لئے سے زیادہ خوفناک ملک ہے۔ ایرانی اپوزیشن کے افراد تین دہائیوں سے یہاں مقیم ہیں۔

'دی برسہ' اخبار نے اپنی نیوز رپورٹ میں بتایا کہ آسٹرین وزارت داخلہ ملک میں ایرانی جاسوسوں کی بکثرت موجودگی کے معاملے پر اپنا نقطہ نظر دینے سے انکاری ہے کیونکہ شہری آزادیوں کے قانون کے منافی خیال کیا جاتا ہے۔

امریکی کانگریس نے 2012 میں ایران سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی اس رپورٹ کا ایک اہم حصہ آسٹریا میں ایرانی جاسوسوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا تھا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ویانا کا صدر مقام ایرانی جاسوسوں کا مسکن ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ایرانی جاسوسوں کی موجودگی کے ڈانڈے ویانا اور ایرانی انقلاب کے بعد بننے والی تہران حکومت کے درمیان بہترین تعلقات سے جوڑے گئے تھے۔

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مغربی ملکوں میں عراقی مہاجرین کی بھی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے کیونکہ ان میں بعض تہران کے لئے جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

پینٹاگان کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایران کے تین ہزار جاسوس سرگرم ہیں۔ یہ افراد جاسوسی کے علاوہ ٹکنالوجی چوری، دہشت گردی کی کارروائیوں اور مخالفین کے قتل میں ملوث ہیں۔ ایرانی رہبر علی خامنہ ای تہران حکومت پر ہمیشہ سے زور دیتا چلا آیا ہے کہ وہ جاسوسی کی کارروائیوں کو تیز کریں کیونکہ ان کے بقول "فی زمانہ انٹلیجنس کی سرگرمیاں دنیا کے ترقی یافتہ علوم میں شمار ہوتی ہیں۔"