.

اسرائیل کے نئے جاسوس سیارے سے تصاویر کا ارسال شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ جاسوس مصنوعی سیارے نے اپنی ابتدائی تصاویر بھیجنا شروع کر دی ہیں۔ نو روز قبل چھوڑے جانے والے سیارے میں معمولی نوعیت کا تعطل آگیا تھا۔

اسرائیلی وزارت نے انگریزی زبان میں جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ " 13 ستمبر 2016 کے بعد انجینئروں اور ٹیکنیشیئنوں کی ایک ٹیم پہلی مرتبہ اوویک 11 سیارے سے ابتدائی تصاویر اتارنے میں کامیاب ہو گئی"۔

بیان میں حاصل ہونے والی تصاویر کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اسرائیل 1988 سے اب تک جاسوسی کی غرض سے متعدد مصنوعی سیارے چھوڑ چکا ہے۔

اس سے قبل جب اوویک 10 خلا میں داخل ہوا تھا تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے اعلان کیا تھا کہ " سکیورٹی انتظامیہ دن کے کسی بھی وقت اور کسی بھی موسمی حالات میں نزدیک اور دور خطرات سے نمٹ سکتی ہے"۔

یکم ستمبر کو ٹیلی کمیونی کیشنز سے متعلق اسرائیل کا ایک مصنوعی سیارہ عاموس6 امریکا میں ایک مرکز سے چھوڑے جانے کی تیاری کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔ یہ سیارہ اس راکٹ کے پھٹ جانے سے تباہ ہوا جسے سیارے کو تجربے کے دوران خلا میں لے کر جانا تھا۔