.

ایران حوثی باغیوں کو ہتھیار مہیا کررہا ہے: یمنی وزیر خارجہ

یمنی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران کے خلاف شکایت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران کی جانب سے حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کی شکایت کرنے جارہا ہے۔

یہ بات یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ آیندہ ہفتے کے آغاز میں انسانی امداد مہیا کرنے کی غرض سے متحارب فریقوں کے درمیان 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی ہوجائے گی۔

انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا کہ ''ایران سے نئے ہتھیار بھی یمن میں آرہے ہیں۔ایران سے حوثیوں کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو چھپانا ناممکن ہے۔ان میں سے بعض ہتھیار یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی علاقے سے ملے ہیں''۔

عبدالملک المخلافی نے کہا کہ ان کی حکومت سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کے بارے میں شکایت دائر کررہی ہے۔اس کے ساتھ دستاویزی ثبوت اور تصاویر منسلک ہوں گی۔

انھوں نے بتایا کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اس ہفتے امریکا اور اقوام متحدہ کے عہدے داروں سے ملاقات کی ہے اور انھوں نے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی سے اصولی اتفاق کیا ہے۔صدر ہادی نے ان سے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران وسطی شہر تعز کا غیر منصفانہ محاصرہ ختم کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی وہاں خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یمنی حکومت اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی حوثیوں سے بات چیت کی منتظر ہے تا کہ ان سے جنگ بندی کے حوالے سے ضمانتیں حاصل کی جاسکیں۔

واضح رہے کہ یمن اور سعودی عرب ایران پر گذشتہ سال کے اوائل میں تنازعے کے آغاز کے بعد سے حوثیوں کو ہتھیار مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے فوری طور پر یمنی وزیر خارجہ کے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔