روس شام میں جنگ کو طول دینے کا ذمے دار ہے : برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے روس کو شام میں جنگ کو طول دینے کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے امدادی قافلے کو نشانہ بنا کر ممکنہ طور پر جنگی جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے۔

وہ بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''روس اس جنگ کی طوالت اور اس کو زیادہ خوف ناک بنانے کا قصور وار ہے''۔ ان کا یہ انٹرویو اتوار کو نشر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب حلب میں امدادی قافلے کو نشانہ بنانے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو ہمیں پھر یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا اس پر جان بوجھ کر تو بمباری نہیں کی گئی ہے اور عام شہری ہدف بنے ہیں تو یہ ایک جنگی جرم ہے''۔

وہ گذشتہ سوموار کی شب حلب کے نواح میں 31 ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلے پر حملے کا حوالہ دے رہے تھے جس کے نتیجے میں کم سے کم بیس شہری ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی حکام کو یقین ہے کہ یہ حملہ روسی لڑاکا طیارے نے کیا تھا جبکہ روس نے اس حملے سے لاتعلق ظاہر کی تھی۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے طلاق کا باضابطہ عمل شروع کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ سب کچھ ہوجاتا ہے تو ان کا ملک علاحدگی کے عمل کو طول نہیں دے گا۔

گذشتہ ہفتے انھوں نے کہا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کے لزبن معاہدے کی دفعہ 50 کے تحت آیندہ سال تنظیم سے علاحدگی کا عمل شروع کرے گا۔ان کے اس بیان کی وزیر اعظم تھریسا مے کے مشیروں نے بھی تائید کی تھی اور کہا تھا کہ پالیسی یہی ہے اور برطانیہ اس سال تنظیم سے طلاق کے طریق کار کا آغاز نہیں کرے گا۔

مسٹر جانسن نے بی بی سی کے پروگرام میں مزید کہا کہ ''میرے خیال میں ہم کرسمس سے قبل کوئی اہم کام نہیں کرنے جارہے ہیں اور ہمیں اپنی تمام چیزوں کو درست کرنےکے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد جیسا کہ وزیراعظم نے کہاہے، علاحدگی کے عمل کو طول نہیں دیا جانا چاہیے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں