آئندہ انتخابات میں نژاد کی نامزدگی خامنہ ای کی جانب سے مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو آئندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار نامزد ہونے سے روک دیا ہے۔ ایران میں اگلے صدارتی انتخابات 19 مئی 2017 کو ہوں گے۔

مرشد اعلی کی ویب سائٹ پر خامنہ ای کی ایک صوتی ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جس میں وہ تہران میں مذہبی شخصیات کے ایک گروپ کو دینی درس دے رہے ہیں۔ اس دوران خامنہ ای نے بتایا کہ انہوں نے "کچھ روز قبل ایک نمایاں سیاسی شخصیت سے ملاقات کی تھی جس میں اس شخصیت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اسے آئندہ صدارتی انتخابات میں نامزد ہونے کی ضرورت نہیں"۔ خامنہ ای کا اشارہ دو ہفتے قبل اپنے دفتر میں سابق صدر احمدی نژاد کے استقبال کی جانب تھا۔

خامنہ ای کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ احمدی نژاد کی نامزدگی ملک میں اختلافات اور انقسام کی صورت حال پیدا کردے گی جو خود نژاد اور ملک کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

ایرانی مرشد اعلی نے اس خبر کے میڈیا میں افشا ہونے پر سخت غصے کا اظہار کیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ " بعض سیاسی جانبوں اور میڈیا کی جانب سے اس خبر کو منفی انداز سے پھیلایا گیا ہے۔ میں نے مذکورہ شخصیت کو صدارتی انتخابات میں شریک ہونے سے نہیں روکا بلکہ اس شخصیت سے یہ کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں شرکت تمہارے اور ملک دونوں کے مفاد میں نہیں"۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے سابق ڈائریکٹر جنرل مہدی فضائلی نے سب سے پہلے جمعرات کے روز اس خبر کا انکشاف کیا۔ انہوں نے ایک مضمون میں بتایا کہ محمود احمدی نژاد سرتوڑ کوشش کے بعد کچھ ہفتے قبل علی خامنہ ای سے ملاقات میں کامیاب رہے تاہم نژاد کو آئندہ برس صدارتی انتخابات کے میدان میں قدم رکھنے کے حوالے سے مرشد اعلی کی جانب سے فیصلہ کن انداز میں صریح ممانعت کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ احمد نژاد کے دور میں ملکی تاریخ کی بدترین بدعنوانی ، غبن ، رشوت اور حکومتی سطح پر سرقوں کی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ یہ امر ایرانی مرشد اعلی کے لیے انتہائی شرمناک ثابت ہوا جو نژاد کی حکومت کو "ایران کی تاریخ کی سب سے ایمان دار حکومت" قرار دیتے تھے۔ خامنہ ای نے 2009 کے صدارتی انتخابات کے متنازعہ نتائج کی تائید کی تھی جب کہ نتائج میں مبینہ جعل سازی اور دھاندلی کے خلاف سبز تحریک شروع کی گئی تھی۔

احمدی نژاد نے کئی ماہ سے ایرانی شہروں کے مسلسل دوروں کے ذریعے اپنی سیاسی سرگرمی شروع کر رکھی تھی جس کا مقصد آئندہ انتخابات کے لیے تیاری کرنا ہے۔ اس دوران انہوں نے حسن روحانی کی موجودہ حکومت کو کئی بار تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ نژاد نے ایک خطاب میں یہاں تک دعوی کر ڈالا کہ روحانی یک مدتی صدارت والے ملک کے پہلے صدر ہوں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مرشد اعلی کی جانب سے احمدی نژاد کی نامزدگی کا مسترد کیا جانا.. امریکی صدر باراک اوباما کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد نیوکلیئر معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے خامنہ ای کی تشویش کے سلسلے میں ہے۔ خامنہ ای کے نزدیک حسن روحانی واشنگٹن کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ جاری رکھنے کے امکان ، ایران پر سے پابندیوں کے مکمل طور پر اٹھائے جانے اور امریکا کی طرف سے خطے میں ایران کے رسوخ کو قبول کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے حوالے سے واحد ضمانت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں