سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف ترکی کا دو روزہ دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد ،نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف 29 اور 30 ستمبر کو ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے۔

اس دو روزہ دورے میں توقع ہے کہ وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن ، وزیراعظم بن علی یلدرم اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی ولی عہد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد یہ دورہ کررہے ہیں اور جولائی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وہ ترکی کی بڑی کمپنیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سعودی عرب میں ان کی جانب سے سرمایہ کاری کو فروغ دینے سے متعلق اقدامات پر بھی بات چیت کریں گے۔

ترک وزارت عظمیٰ کے ماتحت ادارہ برائے فروغ سرمایہ کاری کے سینیر مشیر ڈاکٹر مصطفیٰ گوکسو نے بتایا ہے کہ ترک حکومت سعودی ولی عہد سے ترکی اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے سمجھوتے پر دستخطوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کرے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترک حکومت اس سال کے اختتام میں سعودی اور خلیجی کاروباری شخصیات کے لیے نئی مراعات اور سہولتوں کا اعلان کرے گی تاکہ ان کی ترکی میں سرمایہ لگانے کے لیے حوصلہ افزائی ہو۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی سات سو سے زیادہ کمپنیوں نے ترکی میں دو ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور اپنے ترک ہم منصب مولود شاوس اوغلو سے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر بات چیت کی تھی۔اس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی شام ،عراق ،یمن اور دہشت گردی سے متعلق یکساں موقف کے حامل ہیں۔انھوں نے حج سے متعلق مؤقف پر سعودی عرب کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا تھا۔مولود شاوس اوغلو نے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سعودی عرب کی جانب سے صدر ایردوآن کی حکومت کی بھرپور حمایت کو سراہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں