لیبی وزیر اعظم کا بحران کے خاتمے کے لیے قومی مصالحت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کے وزیراعظم فائز السراج نے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں جاری بد امنی اور طوائف الملوکی پر قابو پانے کے لیے قومی مصالحت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے نیویارک میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ان کے مضبوط گڑھ سرت میں جنگ آخری مراحل میں ہے۔

فائز السراج نے کہا:''لیبیا گذشتہ پانچ سال سے ایک مشکل اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہےاور خونیں تنازعات کے نتیجے میں سماجی ڈھانچا تار تار ہوچکا ہے ،سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے۔اس لیے ہم اندرون اور بیرون ملک مقیم لیبی شہریوں میں حقیقی مصالحت چاہتے ہیں اور کسی سیاسی دھڑے کو اس سے باہر نہیں کیا جائے گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ '' مصالحت سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا اور اس سے اقتصادی استحکام میں مدد ملے گی''۔ انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ سال کے اختتام سے قبل قومی مصالحت کا عمل شروع کرسکیں گے لیکن انھیں ناخوشگوار صورت حال کا سامنا ہے۔

وزیراعظم فائز السراج نے اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں قومی اتحاد کی حکومت ( جی این اے) بنائی تھی اور طرابلس میں فجر لیبیا کی حکومت نے اقتدار ان کی قیادت میں صدارتی کونسل کے حوالے کردیا تھا لیکن ابھی تک وہ ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی اور دوسرے مشرقی علاقوں میں اپنی عمل داری قائم نہیں کرسکے ہیں۔

بن غازی پر قابض متنازعہ جنرل خلیفہ حفتر ان کی حکومت کی مخالفت کررہے ہیں اور انھوں نے مشرقی شہر طبرق میں قائم پارلیمان کو جی این اے کی حکومت کی توثیق سے بھی روک دیا تھا۔خلیفہ حفتر نے اپنے ماتحت لیبی قومی فوج کو ملک کی مسلح افواج میں مدغم کرنے کے لیے کوششوں کی بھی مزاحمت کی ہے۔

فائز السراج کا کہنا تھا کہ ہم آیندہ ہفتوں کے دوران نئی حکومت کی ہیئت ترکیبی سے متعلق حتمی مذاکرات کی توقع کرتے ہیں مگر ہمیں نئی حکومت کو پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کرنے سے متعلق کوئی سرکاری خط موصول نہیں ہوا ہے۔اس کے باوجود ہم نے پارلیمان کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔اب یہ پارلیمان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنا فرض پورا کرے''۔

طبرق پارلیمان ماضی میں قومی اتحاد کی کابینہ میں شامل وزراء کو دو مرتبہ مسترد کرچکی ہے۔ فائزالسراج اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ خلیفہ حفتر سے بات چیت کو تیار ہیں۔انھوں نے اس انٹرویو میں ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ان کے کوئی تحفظات نہیں ہیں اور وہ کسی سے بھی لیبیا میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو تیار ہیں۔

انھوں نے لیبیا کی تیل کی بندر گاہوں پر خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز کے قبضے سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بھی خوش اسلوبی سے سلجھانے کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ ہم نے واضح پیغام بھیجا ہے کہ تیل کی تنصیبات کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔جو کوئی بھی ان تنصیبات کا تحفظ کرے ،اس کو صدارتی کونسل کی چھتری تلے کام کرنا چاہیے۔

خلیفہ حفتر کی فورسز نے تیل کی بندرگاہوں کا آپریشنل کنٹرول نیشنل آئیل کارپوریشن ( این او سی) کے حوالے کردیا ہے جبکہ این او سی صدارتی کونسل کے تحت کام کرتی ہے۔واضح رہے کہ لیبیا کی معیشت کا دارومدار تیل کی برآمدات پر ہے اور اس کو معاشی دیوالہ نکلنے سے بچنے کے لیے تیل کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں