یمنی فورسز کی صوبہ ابین میں کارروائی، القاعدہ کا مشتبہ سربراہ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے جنوبی صوبے ابین میں ایک کارروائی کے دوران القاعدہ کے ایک مقامی سربراہ کو ہلاک کردیا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سوموار کے روز صوبے ابین میں واقع شہر لودر کے نواح میں القاعدہ کے جنگجو عبداللہ حبیبت کے مکان پر دھاوا بولا تھا اور وہاں موجود جنگجوؤں سے لڑائی میں ایک یمنی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔جھڑپ میں القاعدہ کے دو اور مشتبہ جنگجو زخمی ہوگئے ہیں اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یمنی حکومت کے تحت فورسز نے گذشتہ ماہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے ابین کے دارالحکومت زنجبار پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور القاعدہ اور داعش کے جنگجو وہاں سے پسپا ہوگئے تھے۔

صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے اس سال مارچ میں ملک کے جنوبی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور اب تک انھوں نے بہت سے جنوبی شہروں اور قصبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ ستمبر2014ء میں حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے ساحلی شہر المکلا اور بعض دوسرے جنوبی اور جنوب مشرقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں انھیں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں اور سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور وہ اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو دنیا میں سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس گروپ نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ابتر صورت حال سے فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں